383
Favorite

باعتبار

رونق بزم نہیں تھا کوئی تجھ سے پہلے

رونق بزم ترے بعد نہیں ہے کوئی

اسی کے خواب تھے سارے اسی کو سونپ دیئے

سو وہ بھی جیت گیا اور میں بھی ہارا نہیں

دل جو ٹوٹا ہے تو پھر یاد نہیں ہے کوئی

اس خرابے میں اب آباد نہیں ہے کوئی

اس سے کہہ دو کہ مجھے اس سے نہیں ملنا ہے

وہ ہے مصروف تو بے کار نہیں ہوں میں بھی

موسم کوئی بھی ہو پہ بدلتا نہیں ہوں میں

یعنی کسی بھی سانچے میں ڈھلتا نہیں ہوں میں

تم تھے تو ہر اک درد تمہیں سے تھا عبارت

اب زندگی خانوں میں بسر ہونے لگی ہے

ہم کسی اور وقت کے ہیں اسیر

صبح کے شام کے رہے ہی نہیں

پیروں سے باندھ لیتا ہوں پچھلی مسافتیں

تنہا کسی سفر پہ نکلتا نہیں ہوں میں

دیر تک جاگتے رہنے کا سبب یاد آیا

تم سے بچھڑے تھے کسی موڑ پہ اب یاد آیا

اب مجھ میں کوئی بات نئی ڈھونڈھنے والو

اب مجھ میں کوئی بات پرانی بھی نہیں ہے

اسی سے پوچھو اسے نیند کیوں نہیں آتی

یہ اس کا کام نہیں ہے تو میرا کام ہے کیا

نہ رات باقی ہے کوئی نہ خواب باقی ہے

مگر ابھی مرے غم کا حساب کا باقی ہے

لمبی ہے بہت آج کی شب جاگنے والو

اور یاد مجھے کوئی کہانی بھی نہیں ہے

نہ چاند کا نہ ستاروں نہ آفتاب کا ہے

سوال اب کے مری جاں ترے جواب کا ہے

خواب میلے ہو گئے تھے ان کو دھونا چاہئے تھا

رات کی تنہائیوں میں خوب رونا چاہئے تھا

زیست کی یکسانیت سے تنگ آ جاتے ہیں سب

ایک دن تو بھی مری باتوں سے اکتا جائے گا

ابتدا اس نے ہی کی تھی مری رسوائی کی

وہ خدا ہے تو گنہ گار نہیں ہوں میں بھی

ملتے ہو تو اب تم بھی بہت رہتے ہو خاموش

کیا تم کو بھی اب میری خبر ہونے لگی ہے

میں جس کو سوچتا رہتا ہوں کیا ہے وہ آخر

مرے لبوں پہ جو رہتا ہے اس کا نام ہے کیا

عجیب فرصت آوارگی ملی ہے مجھے

بچھڑ کے تجھ سے زمانے کا ڈر نہیں ہے کوئی

وہ چہرہ مجھے صاف دکھائی نہیں دیتا

رہ جاتی ہیں سایوں میں الجھ کر مری آنکھیں

آنکھوں نے بنائی تھی کوئی خواب کی تصویر

تم بھول گئے ہو تو کسے دھیان رہے گا

اب جسم کے اندر سے آواز نہیں آتی

اب جسم کے اندر وہ رہتا ہی نہیں ہوگا

سیاہ رات کے پہلو میں جسم کے اندر

کسی گناہ کی خواہش کو پالتے رہنا

یہ کائنات بھی کیا قید خانہ ہے کوئی

یہ زندگی بھی کوئی طرز انتقام ہے کیا

آئنے میں کہیں گم ہو گئی صورت میری

مجھ سے ملتی ہی نہیں شکل و شباہت میری

بادہ و جام کے رہے ہی نہیں

ہم کسی کام کے رہے ہی نہیں

جو تم کہتے ہو مجھ سے پہلے تم آئے تھے محفل میں

تو پھر تم ہی بتاؤ آج کیا کیا ہونے والا ہے

بات تو یہ ہے کہ وہ گھر سے نکلتا بھی نہیں

اور مجھ کو سر بازار لئے پھرتا ہے

اک تو نے ہی نہیں کی جنوں کی دکان بند

سودا کوئی ہمارے بھی سر میں نہیں رہا

تری دعائیں بھی شامل ہیں کوششوں میں مری

مصیبتوں کا نہ ٹلنا عجیب لگتا ہے

میں اپنے آپ سے آگے نکل گیا ہوں بہت

کسی سفر کے حوالے یہ جسم و جاں کر کے

ہوش جاتا رہا دنیا کی خبر ہی نہ رہی

جب کہ ہم بھول گئے خود کو وہ تب یاد آیا

کسی نے جاں ہی لٹا دی وفاؤں کی خاطر

تم ہی بتاؤ کہ قصہ یہ کس کتاب کا ہے

ایک دن اس کی نگاہوں سے بھی گر جائیں گے

اس کے بخشے ہوئے لمحوں پہ بسر کرتے ہوئے

سنتے ہیں بیاباں بھی کبھی شہر رہا تھا

سو شہر بھی اک روز بیابان رہے گا

وہ بھی نہ آیا عمر گزشتہ کے مثل ہی

ہم بھی کھڑے رہے در و دیوار کی طرح

پانیوں میں کھیل کچھ ایسا بھی ہونا چاہئے تھا

بیچ دریا میں کوئی کشتی ڈبونا چاہئے تھا

وہ مضطرب تھا بہت مجھ کو درمیاں کر کے

سو پا لیا ہے اسے خود کو رائیگاں کر کے

ستم کئے ہیں تو کیا تجھ سے ہے حیات مری

قریب آ مری آنکھوں کے خواب، زندہ ہوں

شریک وہ بھی رہا کاوش محبت میں

شروع اس نے کیا تھا تمام میں نے کیا

تمام عمر بقید سفر رہا ہوں میں

طواف پھر کسی کعبہ کا کر رہا ہوں میں

اپنے ہی سائے سے ہر گام لرز جاتا ہوں

مجھ سے طے ہی نہیں ہوتی ہے مسافت میری

تو دیکھیں اور کسی کو جو وہ نہیں موجود

تو جائیں اور کہیں اس نے جب پکارا نہیں

مرے مرنے کا غم تو بے سبب ہوگا کہ اب کے بار

مرے اندر تو کوئی اور پیدا ہونے والا ہے

ہمارے کاندھے پہ اس بار صرف آنکھیں ہیں

ہمارے کاندھے پہ اس بار سر نہیں ہے کوئی

میں تو اب شہر میں ہوں اور کوئی رات گئے

چیختا رہتا ہے صحرائے بدن کے اندر