آرزو حسرت اور امید شکایت آنسو

اک ترا ذکر تھا اور بیچ میں کیا کیا نکلا

آغاز محبت سے انجام محبت تک

''اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے''

بے کیف جوانی ہے بے درد زمانہ ہے

ناکام محبت کا اتنا ہی فسانہ ہے

شوق ہے تجھ کو زمانہ میں ترا نام رہے

اور مجھے ڈر ہے محبت مری بد نام نہ ہو

تو نے کب عشق میں اچھا برا سوچا سرورؔ

کیسے ممکن ہے کہ تیرا برا انجام نہ ہو

دیکھ یہ جذب محبت کا کرشمہ تو نہیں

کل جو تیرے دل میں تھا وہ آج میرے دل میں ہے

عاشقی کی خیر ہو سرورؔ کہ اب اس شہر میں

وقت وہ آیا ہے بندے بھی خدا ہونے لگے

کم عیاری نے خدا سوز بنایا ایسا

بت تو سب یاد رہے ایک خدا بھول گئے

بیان قصۂ بے چارگی کیا جائے

جو دل کی رہ گئی دل میں اسے کہا جائے