رات ہی کے دامن میں چاند بھی ہیں تارے بھی

رات ہی کی قسمت ہے بے چراغ ہونا بھی

کوئی لہجہ کوئی جملہ کوئی چہرہ نکل آیا

پرانے طاق کے سامان سے کیا کیا نکل آیا

شریف لوگ کہاں جائیں کیا کریں آخر

زمیں چیختی پھرتی ہے آسماں چپ چاپ