Shamim Karhani's Photo'

شمیم کرہانی

1913 - 1975 | کرہان, ہندوستان

ترقی پسند شاعر- انقلابی نظموں کے لئے مشہور

ترقی پسند شاعر- انقلابی نظموں کے لئے مشہور

یاد ماضی غم امروز امید فردا

کتنے سائے مرے ہم راہ چلا کرتے ہیں

لیجئے بلا لیا آپ کو خیال میں

اب تو دیکھیے ہمیں کوئی دیکھتا نہیں

now that I have invited you in my reverie

you can look upon me, none is there to see

پینے کو اس جہان میں کون سی مے نہیں مگر

عشق جو بانٹتا ہے وہ آب حیات اور ہے

چپ ہوں تمہارا درد محبت لیے ہوئے

سب پوچھتے ہیں تم نے زمانے سے کیا لیا

بجھا ہے دل تو نہ سمجھو کہ بجھ گیا غم بھی

کہ اب چراغ کے بدلے چراغ کی لو ہے

بے خبر پھول کو بھی کھینچ کے پتھر پہ نہ مار

کہ دل سنگ میں خوابیدہ صنم ہوتا ہے