noImage

شارب مورانوی

سروں پہ اوڑھ کے مزدور دھوپ کی چادر

خود اپنے سر پہ اسے سائباں سمجھنے لگے

پیڑ کے نیچے ذرا سی چھاؤں جو اس کو ملی

سو گیا مزدور تن پر بوریا اوڑھے ہوئے

کسی کو مار کے خوش ہو رہے ہیں دہشت گرد

کہیں پہ شام غریباں کہیں دوالی ہے