شارب مورانوی کے اشعار
کسی کو مار کے خوش ہو رہے ہیں دہشت گرد
کہیں پہ شام غریباں کہیں دوالی ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
پیڑ کے نیچے ذرا سی چھاؤں جو اس کو ملی
سو گیا مزدور تن پر بوریا اوڑھے ہوئے
-
موضوع : مزدور
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
سروں پہ اوڑھ کے مزدور دھوپ کی چادر
خود اپنے سر پہ اسے سائباں سمجھنے لگے
-
موضوع : مزدور
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ہم ایسے دشت کا تالاب ہیں جہاں پانی
کوئی بھی شیر ہو گردن جھکا کے پیتا ہے
سب ایک جیسی ہیں دنیا کی عورتیں لیکن
تمہارے ڈسنے کا انداز مختلف ٹھہرا
قفس کے بند پرندے ہیں جن کی آنکھوں میں
اسیری گھومتی رہتی ہے قید خانوں کی
شجر پہ بیٹھے پرندوں کا شور کاٹتا ہے
درخت کو مرے گھر سے اکھاڑ دے کوئی
کبھی ملو تو دکھاؤں اداسیوں کا سفر
جنہیں میں روح کی گہرائیوں میں رکھتا ہوں
پوری دنیا مجھے فنکار سمجھتی ہے تو کیا
میرے گھر والے تو ناکارہ سمجھتے ہیں مجھے
اس نے ہونٹوں پہ لب رکھے بھی نہ تھے
مجھ میں سورج طلوع ہونے لگا
تمہیں بھی ایک دن میں ڈھونڈھتا ہوا آتا
مگر یہ روح کسی اور کے حصار میں ہے
رخ پہ آ جاتا ہے جس روز تمنا کا بخار
رات ہو جاتی ہے چہرہ مجھے دھوتے دھوتے
سیاہ شب میں چراغوں سے دوستی کرنا
ہمیں پسند نہیں گھر میں دشمنی کرنا
مری آنکھیں یہاں تنہا پڑی ہیں
تو اس کا کون پیچھا کر رہا ہے