Shariq Kaifi's Photo'

شارق کیفی

1961 | بریلی, ہندوستان

غزل

انتہا تک بات لے جاتا ہوں میں

شارق کیفی

ایک مدت ہوئی گھر سے نکلے ہوئے

شارق کیفی

خموشی بس خموشی تھی اجازت اب ہوئی ہے

شارق کیفی

دنیا شاید بھول رہی ہے

شارق کیفی

لوگ سہہ لیتے تھے ہنس کر کبھی بے_زاری بھی

شارق کیفی

نہیں میں حوصلہ تو کر رہا تھا

شارق کیفی

کہیں نہ تھا وہ دریا جس کا ساحل تھا میں

شارق کیفی

ہیں اب اس فکر میں ڈوبے ہوئے ہم

شارق کیفی

یہ سچ ہے دنیا بہت حسیں ہے

شارق کیفی

نظم

سرکس میں نوکری کا آخری دن

شارق کیفی

ایک کینسر کے مریض کی بڑبڑ

شارق کیفی

جنت سے دور

شارق کیفی

روتا ہوا بکرا

شارق کیفی

فقط حصے کی خاطر

شارق کیفی

مرنے والے سے جلن

شارق کیفی

کتے کی موت

شارق کیفی

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI