Sohail Azeemabadi's Photo'

سہیل عظیم آبادی

1911 - 1979 | پٹنہ, ہندوستان

ترقی پسند افسانہ نگار، شاعر اور ڈرامہ نویس۔

ترقی پسند افسانہ نگار، شاعر اور ڈرامہ نویس۔

سہیل عظیم آبادی کے اشعار

1.1K
Favorite

باعتبار

پتھر تو ہزاروں نے مارے تھے مجھے لیکن

جو دل پہ لگا آ کر اک دوست نے مارا ہے

کوئی محفل سے اٹھ کر جا رہا ہے

سنبھل اے دل برا وقت آ رہا ہے

تمناؤں کی دنیا دل میں ہم آباد کرتے ہیں

غضب ہے اپنے ہاتھوں زندگی برباد کرتے ہیں

کیا غم ہے جو ہم گمنام رہے تم تو نہ مگر بدنام ہوئے

اچھا ہے کہ میرے مرنے پر دنیا میں مرا ماتم نہ ہوا

وہ کون دل ہے جہاں میں کہہ دوں جسے کہ یہ آپ کا نہیں ہے

غضب تو یہ ہے کہ میرا دل ہے مگر مرا ہم نوا نہیں ہے

سینہ فگار چاک گریباں کفن بہ دوش

آئے ہیں تیری بزم میں اس بانکپن سے ہم

وہ لمحہ زیست کا لعنت ہے آدمی کے لیے

جھکے جو سر کہیں اظہار بندگی کے لیے

سہیلؔ ان دوستوں کا جی لگے کس طرح کالج میں

جو درس شوق لیتے ہیں کتاب روئے جاناں سے

وہ راتیں کیف میں ڈوبی وہ تیری پیار کی باتیں

نکل پڑتے ہیں آنسو جب کبھی ہم یاد کرتے ہیں

ہے یہ مطلب گردش ایام کا

پردہ رکھ لے کوشش ناکام کا

کیا لطف ہے ایسے جینے کا جس کی نہ کسی کو پروا ہو

کس کام کا مرنا وہ مرنا جس کا کہ کسی کو غم نہ ہوا

دماغ کو کر رہا ہوں روشن میں داغ دل کے جلا رہا ہوں

اب اپنی تاریک زندگی کا نیا سراپا بنا رہا ہوں

خاک اچھالو جو زمیں پر تو فلک پر گر جائے

اب کھلا یہ کہ بہت پست ہے ہمت میری

المدد اے جذبہ ذوق محبت المدد

عشق نے آواز دی بے اختیارانہ مجھے

تیری بے پردگی ہی حسن کا پردہ نکلی

کام کچھ کر گئی ہر حال میں غفلت میری

اے حسرت دل گو وصل ہوا پر شوق ہمارا کم نہ ہوا

جس سے کہ خلش کچھ اور بڑھے وہ زخم ہوا مرہم نہ ہوا

ہر وقت کی آہ و زاری سے دم بھر تو ذرا ملتی فرصت

رونا ہی مقدر تھا میرا تو کس لیے میں شبنم نہ ہوا

جنگل میں گئے گلشن میں گئے بستی میں گئے صحرا میں گئے

ہر طرح سے بہلایا دل کو پر دل کا دھڑکنا کم نہ ہوا

دیکھیے دیکھیے ہے بندۂ بے دام سہیلؔ

نگہ نرگس مخمور ہے قیمت میری