Sohail Azeemabadi's Photo'

سہیل عظیم آبادی

1911 - 1979 | پٹنہ, ہندوستان

ترقی پسند افسانہ نگار، شاعر اور ڈرامہ نویس۔

ترقی پسند افسانہ نگار، شاعر اور ڈرامہ نویس۔

619
Favorite

باعتبار

پتھر تو ہزاروں نے مارے تھے مجھے لیکن

جو دل پہ لگا آ کر اک دوست نے مارا ہے

تمناؤں کی دنیا دل میں ہم آباد کرتے ہیں

غضب ہے اپنے ہاتھوں زندگی برباد کرتے ہیں

کوئی محفل سے اٹھ کر جا رہا ہے

سنبھل اے دل برا وقت آ رہا ہے

وہ کون دل ہے جہاں میں کہہ دوں جسے کہ یہ آپ کا نہیں ہے

غضب تو یہ ہے کہ میرا دل ہے مگر مرا ہم نوا نہیں ہے

سینہ فگار چاک گریباں کفن بہ دوش

آئے ہیں تیری بزم میں اس بانکپن سے ہم

سہیلؔ ان دوستوں کا جی لگے کس طرح کالج میں

جو درس شوق لیتے ہیں کتاب روئے جاناں سے

وہ راتیں کیف میں ڈوبی وہ تیری پیار کی باتیں

نکل پڑتے ہیں آنسو جب کبھی ہم یاد کرتے ہیں

دماغ کو کر رہا ہوں روشن میں داغ دل کے جلا رہا ہوں

اب اپنی تاریک زندگی کا نیا سراپا بنا رہا ہوں

ہے یہ مطلب گردش ایام کا

پردہ رکھ لے کوشش ناکام کا

کیا غم ہے جو ہم گمنام رہے تم تو نہ مگر بدنام ہوئے

اچھا ہے کہ میرے مرنے پر دنیا میں مرا ماتم نہ ہوا

خاک اچھالو جو زمیں پر تو فلک پر گر جائے

اب کھلا یہ کہ بہت پست ہے ہمت میری

دیکھیے دیکھیے ہے بندۂ بے دام سہیلؔ

نگہ نرگس مخمور ہے قیمت میری

تیری بے پردگی ہی حسن کا پردہ نکلی

کام کچھ کر گئی ہر حال میں غفلت میری

کیا لطف ہے ایسے جینے کا جس کی نہ کسی کو پروا ہو

کس کام کا مرنا وہ مرنا جس کا کہ کسی کو غم نہ ہوا

جنگل میں گئے گلشن میں گئے بستی میں گئے صحرا میں گئے

ہر طرح سے بہلایا دل کو پر دل کا دھڑکنا کم نہ ہوا

وہ لمحہ زیست کا لعنت ہے آدمی کے لیے

جھکے جو سر کہیں اظہار بندگی کے لیے

اے حسرت دل گو وصل ہوا پر شوق ہمارا کم نہ ہوا

جس سے کہ خلش کچھ اور بڑھے وہ زخم ہوا مرہم نہ ہوا

ہر وقت کی آہ و زاری سے دم بھر تو ذرا ملتی فرصت

رونا ہی مقدر تھا میرا تو کس لیے میں شبنم نہ ہوا

المدد اے جذبہ ذوق محبت المدد

عشق نے آواز دی بے اختیارانہ مجھے