Sohail Azeemabadi's Photo'

سہیل عظیم آبادی

1911 - 1979 | پٹنہ, ہندوستان

ترقی پسند افسانہ نگار، شاعر اور ڈرامہ نویس۔

ترقی پسند افسانہ نگار، شاعر اور ڈرامہ نویس۔

سہیل عظیم آبادی کا تعارف

تخلص : 'سہیل'

اصلی نام : مجیب الرحمن

پیدائش : 16 Jul 1911 | پٹنہ, بہار

وفات : 28 Nov 1979 | الہٰ آباد, اتر پردیش

اے حسرت دل گو وصل ہوا پر شوق ہمارا کم نہ ہوا

جس سے کہ خلش کچھ اور بڑھے وہ زخم ہوا مرہم نہ ہوا

سہیل عظیم آبادی اردو کے ایک نامور افسانہ نگار ہیں۔ پریم چند کی روایت بہار کی سرزمین پر انہی کے دم سے آگے بڑھی۔ مولوی عبدالحق کی سرپرستی میں انہوں نے بہار میں اردو کے فروغ کی تحریک چلائی۔ اپنے مشہور اخبار’’ساتھی‘‘ سے انہیں اس کام میں بہت مدد ملی۔ اس کے علاوہ ماہنامہ’’تہذیب‘‘ نے بھی اس مقصد کو پورا کرنے کی کوشش کی۔

سہیل عظیم آبادی نے بہت سے افسانے لکھے اور ان افسانوں میں حقیقی زندگی کے مرقعے پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی۔ ان کے افسانوں کا دائرہ وسیع ہے۔ پریم چند کی پیروی میں وہ دیہات کی زندگی کو اپنا موضوع بناتے ہیں لیکن شہری زندگی کو بھی فراموش نہیں کرتے۔

سہیل عظیم آبادی پر ترقی پسند تحریک کا اثر بھی صاف دیکھا جاسکتا ہے۔ انہوں نے غریبوں اور مظلوموں کی حمایت میں آواز اٹھائی اور اپنے افسانوں میں ان کے مسائل کو کامیابی کے ساتھ پیش کیا۔

وہ ایک کامیاب فنکار ہیں ان کے فن میں گہرائی ہے کیوں کہ وہ مسائل پر سنجیدگی سے غور کرتے ہیں۔ دلکشی ہے کہ کیوں کہ پلاٹ اور کردارنگاری پر خون جگر صرف کرتے ہیں اور آخری بات یہ کہ زبان پر انہیں پوری دسترس حاصل ہے اس لیے ان کا انداز پیش کش بہت مؤثر ہے۔ وقار عظیم لکھتے ہیں ’’سہیل کے افسانوں میں نہ زندگی پر زیادہ زور پڑتا ہے اور نہ فن پر ان کے یہاں طنز ہے لیکن اس میں تلخی نہیں، ادبیت ہے لیکن اس کا شاعرانہ غلو نہیں، زندگی کی سچائی ہے لیکن اس میں زیادہ بھیڑ بھاڑ نہیں۔ ان کے افسانے زندگی کے اضطراب لیکن حق کے سکون کے پیامی ہیں‘‘۔

موضوعات