سید نوید حیدر جعفری کے اشعار
اس کے گھر سے میں ہو کے آیا ہوں
اب کہیں جا کے دل یہ سنبھلا ہے
یہ سارا شہر لگتا ہے سوالی ہو گیا ہے
قناعت کا خزانہ بھی تو خالی ہو گیا ہے
ہے ذاتی سوچ ضروری یہ ذہن میں رکھنا
دماغ خالی ہو تب لوگ کان بھرتے ہیں
ان کی دلچسپی ہے زمینوں میں
اب وہ رشتہ نہیں مکینوں میں