Tabish Dehlvi's Photo'

تابش دہلوی

1911 - 2004 | کراچی, پاکستان

شاہوں کی بندگی میں سر بھی نہیں جھکایا

تیرے لیے سراپا آداب ہو گئے ہم

چھوٹی پڑتی ہے انا کی چادر

پاؤں ڈھکتا ہوں تو سر کھلتا ہے

آئینہ جب بھی رو بہ رو آیا

اپنا چہرہ چھپا لیا ہم نے

ابھی ہیں قرب کے کچھ اور مرحلے باقی

کہ تجھ کو پا کے ہمیں پھر تری تمنا ہے

ذرے میں گم ہزار صحرا

قطرے میں محیط لاکھ قلزم