Tabish Dehlvi's Photo'

تابش دہلوی

1911 - 2004 | کراچی, پاکستان

تابش دہلوی

غزل 24

اشعار 5

چھوٹی پڑتی ہے انا کی چادر

پاؤں ڈھکتا ہوں تو سر کھلتا ہے

  • شیئر کیجیے

ابھی ہیں قرب کے کچھ اور مرحلے باقی

کہ تجھ کو پا کے ہمیں پھر تری تمنا ہے

شاہوں کی بندگی میں سر بھی نہیں جھکایا

تیرے لیے سراپا آداب ہو گئے ہم

  • شیئر کیجیے

آئینہ جب بھی رو بہ رو آیا

اپنا چہرہ چھپا لیا ہم نے

  • شیئر کیجیے

ذرے میں گم ہزار صحرا

قطرے میں محیط لاکھ قلزم

  • شیئر کیجیے

کتاب 7

 

ویڈیو 19

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر

تابش دہلوی

تابش دہلوی

تابش دہلوی

تابش دہلوی

تابش دہلوی

تابش دہلوی

تابش دہلوی

تابش دہلوی

تابش دہلوی

تابش دہلوی

تابش دہلوی

تابش دہلوی

کسی مسکین کا گھر کھلتا ہے

تابش دہلوی

باغ میں جوشِ بہار آخر یہاں تک آ گیا

تابش دہلوی

سب نے مجھ ہی کو در_بدر دیکھا

تابش دہلوی

سوز_پرور نگاہ رکھتے ہیں

تابش دہلوی

منزلوں کو نظر میں رکھا ہے

تابش دہلوی

کسی مسکین کا گھر کھلتا ہے

تابش دہلوی

متعلقہ شعرا

"کراچی" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے