عمّان حسین کے اشعار
بات اور بھی بگڑتی ہے نظریں چرانے سے
عماؔن آئنے میں بھی دیکھا کرو کبھی
ساقی شراب ڈال مگر ناپ کر نہیں
ہوتی ہے شرمسار محبت اصول سے
تاجر ہوں خوشبوؤں کا سو عماؔن اس لیے
پھرتا ہوں اس کے شہر میں اکثر یہاں وہاں
بہتی ہوا نے رات جو روندا گلاب کو
گلشن میں باغبان پہ الزام آ گیا