noImage

ولی عزلت

1692 - 1775 | حیدر آباد, ہندوستان

اردو شاعری کے ممتاز ترین بنیاد ساز شاعرروں میں شامل

اردو شاعری کے ممتاز ترین بنیاد ساز شاعرروں میں شامل

101
Favorite

باعتبار

ہندو و مسلمین ہیں حرص و ہوا پرست

ہو آشنا پرست وہی ہے خدا پرست

تری زلف کی شب کا بیدار میں ہوں

تجھ آنکھوں کے ساغر کا مے خوار میں ہوں

سہج یاد آ گیا وہ لال ہولی باز جوں دل میں

گلالی ہو گیا تن پر مرے خرقہ جو اجلا تھا

محکمے میں عشق کے ہے یارو دیوانے کا شور

میرے دل دینے کا غل اس کے مکر جانے کا شور

وہ پل میں جل بجھا اور یہ تمام رات جلا

ہزار بار پتنگے سے ہے چراغ بھلا

باد بہار میں سب آتش جنون کی ہے

ہر سال آوتی ہے گرمی میں فصل ہولی

سخت پستاں ترے چبھے دل میں

اپنے ہاتھوں سے میں خراب ہوا

گئے سب مرد رہ گئے رہزن اب الفت سے کامل ہوں

اے دل والو میں ان دل والیوں سے سخت بیدل ہوں

عشق گورے حسن کا عاشق کے دل کو دے جلا

سانولوں کے عاشقوں کا دل ہے کالا کوئلہ

جو ہم یہ طفلوں کے سنگ جفا کے مارے ہیں

بتوں کا شکوہ نہیں ہم خدا کے مارے ہیں

ہم اس کی زلف کی زنجیر میں ہوئے ہیں اسیر

سجن کے سر کی بلا آ پڑی ہمارے گلے

اس کو پہنچی خبر کہ جیتا ہوں

کسی دشمن سیتی سنا ہوگا

تلخ لگتا ہے اسے شہر کی بستی کا سواد

ذوق ہے جس کو بیاباں کے نکل جانے کا

اے سالک انتظار حج میں کیا تو ہکا بکا ہے

بگولے سا تو کر لے طوف دل پہلو میں مکہ ہے

غنیمت بوجھ لیویں میرے درد آلود نالوں کو

یہ دیوانہ بہت یاد آئے گا شہری غزالوں کو

جپے ہے ورد سا تجھ سے صنم کے نام کو شیخ

نماز توڑ اٹھے تیرے رام رام کو شیخ

جو عاشق ہو اسے صحرا میں چل جانے سے کیا نسبت

جز اپنی دھول اڑانا اور ویرانے سے کیا نسبت

جس پر نظر پڑے اسے خود سے نکالنا

روشن دلوں کا کام ہے مانند آئینہ

جاوے تھی جاسوسئ مجنوں کو تا راحت نہ لے

ورنہ کب لیلیٰ کو تھا صحرا میں جانے کا دماغ

میں صحرا جا کے قبر حضرت مجنوں کو دیکھا تھا

زیارت کرتے تھے آہو بگولہ طوف کرتا تھا

جلد مر گئے تری حسرت سیتی ہم

کہ ترا دیر کا آنا نہ گیا

اس زمانے میں بزرگی سفلگی کا نام ہے

جس کی ٹکیا میں پھرے انگلی سو ہو جاوے ترا

سیا ہے زخم بلبل گل نے خار اور بوئیگلشن سے

سوئی تاگا ہمارے چاک دل کا ہے کہاں دیکھیں

کچھ غور کا جوہر نہیں خود فہمی میں حیراں ہیں

اس عصر کے فاضل سب سطحی ہیں جوں آئینہ

کہا جو میں نے گیا خط سے ہائے تیرا حسن

تو ہنس کے مجھ کو کہا پشم سے گیا تو گیا

پیر ہو شیخ ہوا ہے دیکھو طفلوں کا مرید

مردہ بولا ہے کفن پھاڑ قیامت آئی

تری وحشت کی صرصر سے اڑا جوں پات آندھی کا

مرا دل ہاتھ سے کھویا تو تیرے ہاتھ کیا آیا

جا کر فنا کے اس طرف آسودہ میں ہوا

میں عالم عدم میں بھی دیکھا مزہ نہ تھا