noImage

ولی عزلت

1692 - 1775 | حیدر آباد, ہندوستان

اردو شاعری کے ممتاز ترین بنیاد ساز شاعرروں میں شامل

اردو شاعری کے ممتاز ترین بنیاد ساز شاعرروں میں شامل

166
Favorite

باعتبار

سہج یاد آ گیا وہ لال ہولی باز جوں دل میں

گلالی ہو گیا تن پر مرے خرقہ جو اجلا تھا

باد بہار میں سب آتش جنون کی ہے

ہر سال آوتی ہے گرمی میں فصل ہولی

ہندو و مسلمین ہیں حرص و ہوا پرست

ہو آشنا پرست وہی ہے خدا پرست

تری زلف کی شب کا بیدار میں ہوں

تجھ آنکھوں کے ساغر کا مے خوار میں ہوں

وہ پل میں جل بجھا اور یہ تمام رات جلا

ہزار بار پتنگے سے ہے چراغ بھلا

محکمے میں عشق کے ہے یارو دیوانے کا شور

میرے دل دینے کا غل اس کے مکر جانے کا شور

گئے سب مرد رہ گئے رہزن اب الفت سے کامل ہوں

اے دل والو میں ان دل والیوں سے سخت بیدل ہوں

سخت پستاں ترے چبھے دل میں

اپنے ہاتھوں سے میں خراب ہوا

ہم اس کی زلف کی زنجیر میں ہوئے ہیں اسیر

سجن کے سر کی بلا آ پڑی ہمارے گلے

عشق گورے حسن کا عاشق کے دل کو دے جلا

سانولوں کے عاشقوں کا دل ہے کالا کوئلہ

تلخ لگتا ہے اسے شہر کی بستی کا سواد

ذوق ہے جس کو بیاباں کے نکل جانے کا

جپے ہے ورد سا تجھ سے صنم کے نام کو شیخ

نماز توڑ اٹھے تیرے رام رام کو شیخ

جو ہم یہ طفلوں کے سنگ جفا کے مارے ہیں

بتوں کا شکوہ نہیں ہم خدا کے مارے ہیں

غنیمت بوجھ لیویں میرے درد آلود نالوں کو

یہ دیوانہ بہت یاد آئے گا شہری غزالوں کو

اے سالک انتظار حج میں کیا تو ہکا بکا ہے

بگولے سا تو کر لے طوف دل پہلو میں مکہ ہے

جلد مر گئے تری حسرت سیتی ہم

کہ ترا دیر کا آنا نہ گیا

جس پر نظر پڑے اسے خود سے نکالنا

روشن دلوں کا کام ہے مانند آئینہ

اس کو پہنچی خبر کہ جیتا ہوں

کسی دشمن سیتی سنا ہوگا

میں صحرا جا کے قبر حضرت مجنوں کو دیکھا تھا

زیارت کرتے تھے آہو بگولہ طوف کرتا تھا

جو عاشق ہو اسے صحرا میں چل جانے سے کیا نسبت

جز اپنی دھول اڑانا اور ویرانے سے کیا نسبت

سیا ہے زخم بلبل گل نے خار اور بوئیگلشن سے

سوئی تاگا ہمارے چاک دل کا ہے کہاں دیکھیں

تری وحشت کی صرصر سے اڑا جوں پات آندھی کا

مرا دل ہاتھ سے کھویا تو تیرے ہاتھ کیا آیا

اس زمانے میں بزرگی سفلگی کا نام ہے

جس کی ٹکیا میں پھرے انگلی سو ہو جاوے ترا

کہا جو میں نے گیا خط سے ہائے تیرا حسن

تو ہنس کے مجھ کو کہا پشم سے گیا تو گیا

کچھ غور کا جوہر نہیں خود فہمی میں حیراں ہیں

اس عصر کے فاضل سب سطحی ہیں جوں آئینہ

جاوے تھی جاسوسئ مجنوں کو تا راحت نہ لے

ورنہ کب لیلیٰ کو تھا صحرا میں جانے کا دماغ

جا کر فنا کے اس طرف آسودہ میں ہوا

میں عالم عدم میں بھی دیکھا مزہ نہ تھا

پیر ہو شیخ ہوا ہے دیکھو طفلوں کا مرید

مردہ بولا ہے کفن پھاڑ قیامت آئی