ذکیہ غزل کے اشعار
میں نے مانگی تھی اجالے کی فقط ایک کرن
تم سے یہ کس نے کہا آگ لگا دی جائے
ہم امید فردا کے رہروان منزل ہیں
صبح کے اجالوں کو رات کی سیاہی کیا
-
موضوع : امید
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
درد کی صلیبوں پر لاش ہو چکے نالے
بے ضمیر حاکم کو عدل کی گواہی کیا
مرے حبیب مرا امتحان رہنے دے
کھلے سروں پہ ذرا سائبان رہنے دے