aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "hate"
نفرتوں کے تیر کھا کر دوستوں کے شہر میںہم نے کس کس کو پکارا یہ کہانی پھر سہی
نئے دور کے نئے خواب ہیں نئے موسموں کے گلاب ہیںیہ محبتوں کے چراغ ہیں انہیں نفرتوں کی ہوا نہ دے
مجھ سے تمہیں نفرت سہی نیر سے لڑائیبچوں کا بھی دیکھا نہ تماشا کوئی دن اور
نفرتوں کے جہان میں ہم کو پیار کی بستیاں بسانی ہیںدور رہنا کوئی کمال نہیں پاس آؤ تو کوئی بات بنے
اشک قابو میں نہیں راز چھپاؤں کیوں کردشمنی مجھ سے مرے دیدۂ تر رکھتے ہیں
ہر چیز نہیں ہے مرکز پر اک ذرہ ادھر اک ذرہ ادھرنفرت سے نہ دیکھو دشمن کو شاید وہ محبت کر بیٹھے
ہونے کو یوں تو شہر میں اپنا مکان تھانفرت کا ریگزار مگر درمیان تھا
صرف نفرت ہی تھی میرے لیے جن کے دل میںہو گئے وہ بھی طرف دار یہ قصہ کیا ہے
اور اب گھر بار جب ہم چھوڑ کر آ ہی چکے ہیں توتمہیں جتنی بھی نفرت ہو تمہارے ساتھ رہنا ہے
ہندو کو ہندو مسلمان کو لکھوں مسلمکبھی ان دونوں کو اک ساتھ نہ لکھنے پاؤں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books