aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",OOvY"
آری رویسٹ کرولیس
مصنف
اوو اندرچ
علی عدنان
عطیہ کار
اس گھر کی چھت پر سبز کھپریل تھی۔ ایک جانب گھر کی پوری سائیڈ آئیوی (Ivy) سے ڈھکی تھی جسے نفاست سے کھڑکیوں کے چاروں اطراف سے تراش دیا گیا۔ لان کے گرد دیوار بھی آئیوی سے ڈھکی تھی اور اتنی نیچی تھی کہ لان باہر سے پوری طرح دکھائی...
نہ پوچھ گچھ تھی کسی کی وہاں نہ آؤ بھگتتمہاری بزم میں کل اہتمام کس کا تھا
چوں شمع سوزاں چوں ذرہ حیراں ز مہر آں مہ بگشتم آخرنہ نیند نیناں نہ انگ چیناں نہ آپ آوے نہ بھیجے پتیاں
اب صبح و شام شاید گریے پہ رنگ آوےرہتا ہے کچھ جھمکتا خوناب چشم تر میں
یہ ضد کہ آج نہ آوے اور آئے بن نہ رہےقضا سے شکوہ ہمیں کس قدر ہے کیا کہئے
شعر وادب کے سماجی سروکار بھی بہت واضح رہے ہیں اور شاعروں نے ابتدا ہی سے اپنے آس پاس کے مسائل کو شاعری کا حصہ بنایا ہے البتہ ایک دور ایسا آیا جب شاعری کو سماجی انقلاب کے ایک ذریعے کے طور پر اختیار کیا گیا اور سماج کے نچلے، گرے پڑے اور کسان طبقے کے مسائل کا اظہار شاعری کا بنیادی موضوع بن گیا ۔آپ ان شعروں میں دیکھیں گے کہ کسان طبقہ زندگی کرنے کے عمل میں کس کرب اور دکھ سے گزرتا ہے اور اس کی سماجی حثیت کیا ہے ۔ مزدوروں پر کی جانے والی شاعری کی اور بھی کئی جہتیں ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔
تصوف اوراس کے معاملات اردوشاعری کے اہم تریں موضوعات میں سے رہے ہیں ۔ عشق میں فنائیت کا تصوردراصل عشق حقیقی کا پیدا کردہ ہے ۔ ساتھ ہی زندگی کی عدم ثباتی ، انسانوں کے ساتھ رواداری اورمذہبی شدت پسندی کے مقابلے میں ایک بہت لچکداررویے نے شاعری کی اس جہت کو بہت ثروت مند بنایا ہے ۔ دیکھنے کی ایک بات یہ بھی ہے کہ تصوف کے مضامین کو شعرا نے کس فنی ہنرمندی اورتخلیقی احساس کے ساتھ خالص شعر کی شکل میں پیش کیا ہے ۔ جدید دورکی اس تاریکی میں اس انتخاب کی معنویت اور بڑھ جاتی ہے۔
خاموشی کو موضوع بنانے والے ان شعروں میں آپ خاموشی کا شور سنیں گے اور دیکھیں گے کہ الفاظ کے بے معنی ہوجانے کے بعد خاموشی کس طرح کلام کرتی ہے ۔ ہم نے خاموشی پر بہترین شاعری کا انتخاب کیا ہے اسے پڑھئے اور خاموشی کی زبان سے آگاہی حاصل کیجیے۔
ivy ivy
عِشق پیچاں
bony bony
اُسْتُخوانی
envy envy
حَسَد
booby booby
اَحْمَق
اے ارض فلسطین
انتظار نعیم
سن اے کاتب
جابر حسین
مضامین
اے ماؤ، بہنو، بیٹیو
کشمیری لال ذاکر
ایواء الیتامیٰ
مولانا اشرف علی تھانوی
Low-Budget Film Making
علیم طاہر
دیگر
اسپین کی تاریخ اور بھارت کے مسلمان
سید عبدالباری
از اینی-ون آؤٹ دیئر؟
وزیر آغا
نظم
درینا ندی کا پل
ناول
نذیر احمد ان ہز آن ورڈ ایڈ مائن
مرزا فرحت اللہ بیگ
لیڈی ڈفرن اینڈ ایوا
اے۔ فوربس
حج بیت اللہ اور عمرہ کے متعلق چند اہم فتاوی
عبدالعزیز بن عبداللہ
اسلامیات
موڈرن نیچر اسٹڈی اینڈ ایلیمنٹری سائنس
بی سی گپتا
سائنس
بین المذاہب مفاہمتی مکالمہ
خطبات
وہ جب یاد آئے
اے شہر محترم
ممتاز ملک
حمد
جو کوئی آوے ہے نزدیک ہی بیٹھے ہے ترےہم کہاں تک ترے پہلو سے سرکتے جاویں
معشوق اپنے پاس نہ دے اس کو بیٹھنےآوے جو رات کو تو نکالے وہیں اسے
عید تو آ کے مرے جی کو جلاوے افسوسجس کے آنے کی خوشی ہو وہ نہ آوے افسوس
اس نور کے سبب نظر آتی ہیں روٹیاںآوے توے تنور کا جس جا زباں پہ نام
جب نام ترا لیجیے تب چشم بھر آوےاس زندگی کرنے کو کہاں سے جگر آوے
جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوےجاں کالبد صورت دیوار میں آوے
مر کر بھی ہاتھ آوے تو میرؔ مفت ہے وہجی کے زیان کو بھی ہم سود جانتے ہیں
آوے جو مصطبہ میں تو سن لو کہ راہ سےواعظ کو ایک جام مئے ناب لے گیا
خوشی کیا کھیت پر میرے اگر سو بار ابر آوےسمجھتا ہوں کہ ڈھونڈے ہے ابھی سے برق خرمن کو
ہو گرم سخن تو گرد آوے یک خلقخاموش رہے تو ایک عالم ہووے
دے مجھ کو شکایت کی اجازت کہ ستم گرکچھ تجھ کو مزہ بھی مرے آزار میں آوے
کی اس نے گرم سینۂ اہل ہوس میں جاآوے نہ کیوں پسند کہ ٹھنڈا مکان ہے
ابھی کہیں تو کسی کو نہ اعتبار آوےکہ ہم کو راہ میں اک آشنا نے لوٹ لیا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books