aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",fIOo"
بمحمود پریس فی المدرسۃ النظامیہ ببلدۃ حیدرآباد
ناشر
مولانا زین العابدین المعروفی الاعظمی
مصنف
فی المدینہ لا یدن الحروسۃ
طبع فی دارالطبع لحکومۃ، حیدرآباد
ادارہ حلقۂ فکرودانش، کراچی
قد طبع فی المطبع عزیزی،دکن
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آآ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
محبوب کا گھر ہو کہ بزرگوں کی زمینیںجو چھوڑ دیا پھر اسے مڑ کر نہیں دیکھا
نہیں دنیا کو جب پروا ہماریتو پھر دنیا کی پروا کیوں کریں ہم
نہ یہ کہ وہ چلے تو کہکشاں سی رہ گزر لگےمگر وہ ساتھ ہو تو پھر بھلا بھلا سفر لگے
رغیبی شاعری زندگی کی مشکل گھڑیوں میں ایک سہارے کےطور پرسامنےآتی ہے اوراسے پڑھ کرایک حوصلہ ملتا ہے ۔ یہ مشکل گھڑیاں عشق میں ہجرکی بھی ہوسکتی ہیں اورعام زندگی سے متعلق بھی ۔ یہ شاعری زندگی کے ان تمام مراحل سے گزرنے اورایک روشنی دریافت کرلینے کی قوت پیدا کرتی ہے۔
یہاں چند ایسی غزلیں دی جا رہی ہیں، جو ہراس شخص کو پسند آئیں گی جس کااپنے ماضی کے ساتھ گہرا ربط ہو ۔
یہاں ایسی 10 غزلیں دی جا رہی ہیں جسے سنتے ہوئے ہم ماضی کے ساۓ میں کھو جاتے ہیں
फ़िक्र فِکْر
عربی
اندیشہ، تردد، دغدغہ، الجھن
beau beau
چَھیل چھبیلا
file file
پِرونا
फ़िरो فِرو
زیر، نچلی طرف
الطاف القدس فی معرفۃ لطائف النفس
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
فلسفہ تصوف
حقیقت روح انسانی
امام محمد غزالی
پھر میں ہدایت پاگیا
سید محمد تیجانی سماوی
خودنوشت
مسالک السالکین فی تذکرۃ الواصلین
مرزا عبد الستار بیگ سہسرامی
قادریہ
تبیین الکلام فی تفسیر التوراۃ و الانجیل علی ملۃ الاسلام
سر سید احمد خاں
تقابلی مطالعہ
کوکب دری فی فضائل علی
سید محمد صالح کشفی
اخبار الاخیار فی اسرار الابرار
عبد الحق محدث دہلوی
تذکرہ
فسانے منٹو کے اور پھر بیاں اپنا
خالد اشرف
افسانہ تنقید
احرار اسلام
ابوالکلام آزاد
اسلامیات
سماع اور دیگر اصطلاحات
نشر الطیب
مولانا اشرف علی تھانوی
روح المطالب فی شرح دیوان غالب
شاداں بلگرامی
شرح
عیون الانبا فی طبقات الاطبا
ابن ابی اصیبعہ
طب
السنۃ الجلیۃ فی الچشتیۃ العلیۃ
القول المنصور فی ابن منصور
چشتیہ
جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجودپھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
پھر آخر تنگ آ کر ہم نےدونوں کو ادھورا چھوڑ دیا
ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہےعشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلےبہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
ہم بھی مجبوریوں کا عذر کریںپھر کہیں اور مبتلا ہو جائیں
دل تو چمک سکے گا کیا پھر بھی ترش کے دیکھ لیںشیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی
پھر مجھ کو چاہنے کا تمہیں کوئی حق نہیںتنہا کراہنے کا تمہیں کوئی حق نہیں
بعد بھی تیرے جان جاں دل میں رہا عجب سماںیاد رہی تری یہاں پھر تری یاد بھی گئی
دیکھنا مجھ کو جو برگشتہ تو سو سو ناز سےجب منا لینا تو پھر خود روٹھ جانا یاد ہے
رگ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتاجسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا
ہر رگ خوں میں پھر چراغاں ہوسامنے پھر وہ بے نقاب آئے
کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناںپھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائلجب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوںنہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books