aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",nYAM"
نام داس ماتھر زینت
born.1910
شاعر
مطلب ہے ساری دنیا کو اپنے ہی کام سےآتا ہے مجھ کو چین تمہارے ہی نام سے
ایک عفریت کہ شعلوں کو نگل سکتی ہےبند ہے نیام میں تلوار نکل سکتی ہے
تم مرے سامنے اب جنگ کی باتیں نہ کرونیام سے نکلی تو شمشیر لہو مانگے گی
اے محبت ترے انجام پہ رونا آیاجانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا
بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہیتمہارے نام پہ آئیں گے غم گسار چلے
زمانے بیت گئے مگر محمد رفیع آج بھی اپنی آواز کی ساحری کے زور پر ہرکسی کے دل پر اپنی حکومت جمائے ہوئے ہیں ، ان کے گائے ہوئے بھجن ، اورنغموں کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔ آج ہم آپ کے لئے کچھ مشہورو معروف شاعروں کی ایسی غزلیں لے کر حاضر ہوئے ہیں جنہیں محمد رفیع نے اپنی آواز دی ہے اور ان غزلوں کے حسن میں لہجے اور آواز کا ایسا جادو پھونکا ہے کہ آدمی سنتا رہے اور سر دھنتا رہے ۔
नाम نام
وہ لفظ جس سے کسی ذات یعنی انسان، شے وغیرہ کا علم ہو، کسی کو پکارنے کے لیے ایک مخصوص لفظ، اسم
فارسی
न'अम نَعَم
مویشی، چوپائے، چرنے والے جانور
عربی
नाम-का نام کا
حصے کا ، نام زد
नाम-को نام کو
۔ بہت کم ، برائے نام ، ذرا سا ۔
زیر لب
صفیہ اختر
خواتین کی تحریریں
دامن یوسف
فیض احمد فیض
خطوط
شہر زاد کے نام
انتظار حسین
افسانہ
نعم
کرم حیدری
نعت
زندگی زنداں دلی کا نام ہے
ظفراللہ پوشنی
انتخاب
پروین شاکر کے خطوط نظیر صدیقی کے نام
جاوید وارثی
مضامین/ انشائیہ
شمشیر بے نیام
عنایت اللہ التمش
تاریخی
حضرت امیر خسرو دہلوی کی بیٹی کے نام نصیحت
امیر خسرو
تصوف
بے نام گلیاں اوردوسری کہانیاں
کلام حیدری
نوجوان ناول نگار کے نام خط
ماریو ورگاس للوسا
فکشن تنقید
منٹو کے خطوط
سعادت حسن منٹو
اردو ہے جس کا نام
سید روح الامین
زبان
فقیر کا پیام نئی نسل کے نام
ذوالفقار احمد نقشبندی
نقشبندیہ
سرخ میرا نام
اورحان پاموک
ناول
اقبال کے خطوط جناح کے نام
محمد جہانگیر عالم
اس شہر میں کس سے ملیں ہم سے تو چھوٹیں محفلیںہر شخص تیرا نام لے ہر شخص دیوانا ترا
دل مدعی کے حرف ملامت سے شاد ہےاے جان جاں یہ حرف ترا نام ہی تو ہے
تجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترا
سب تخت گرائے جائیں گےبس نام رہے گا اللہ کا
ایک بے نام سی امید پہ اب بھی شایداپنے خوابوں کے جزیروں کو سجا رکھا ہو
ہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کے
تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھانہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
زندگی زندہ دلی کا ہے ناممردہ دل خاک جیا کرتے ہیں
گھروں پہ نام تھے ناموں کے ساتھ عہدے تھےبہت تلاش کیا کوئی آدمی نہ ملا
جز نام نہیں صورت عالم مجھے منظورجز وہم نہیں ہستیٔ اشیا مرے آگے
زندگی تیری عطا تھی سو ترے نام کی ہےہم نے جیسے بھی بسر کی ترا احساں جاناں
میں خدا کا نام لے کر پی رہا ہوں دوستوزہر بھی اس میں اگر ہوگا دوا ہو جائے گا
اپنے سب یار کام کر رہے ہیںاور ہم ہیں کہ نام کر رہے ہیں
کبھی تو آسماں سے چاند اترے جام ہو جائےتمہارے نام کی اک خوبصورت شام ہو جائے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books