aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",qsuD"
لہسو
مصنف
مکتبہ نذیریہ قصور، لاہور
ناشر
خود کو جانا جدا زمانے سےآ گیا تھا مرے گمان میں کیا
ہیں باشندے اسی بستی کے ہم بھیسو خود پر بھی بھروسا کیوں کریں ہم
کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیابات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلےخدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بسخود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں
یوں تو بظاہر اپنے آپ کو تکلیف پہنچانا اور اذیت میں مبتلا کرنا ایک نہ سمجھ میں آنے والا غیر فطری عمل ہے ، لیکن ایسا ہوتا ہے اور ایسے لمحے آتے ہیں جب خود اذیتی ہی سکون کا باعث بنتی ہے ۔ لیکن ایسا کیوں ؟ اس سوال کا جواب آپ کو شاعری میں ہی مل سکتا ہے ۔ خود اذیتی کو موضوع بنانے والے اشعار کا ایک انتخاب ہم پیش کر رہے ہیں ۔
ख़ुदخود
فارسی
آپ، اپنے آپ، بذات خاص، بنفس نفیس
ख़ुद सेخُود سے
ازخود، اپنے آپ
क़ुसूरقُصُور
عربی
کمی، کوتاہی
सूदسُود
عربی, فارسی
نفع ، فائدہ نقصان کی ضِد
اپنا گریباں چاک
جاوید اقبال
خود نوشت
اردو میں خودنوشت سوانح حیات
صبیحہ انور
آزاد کی کہانی خود آزاد کی زبانی
ابوالکلام آزاد
سوانح حیات
زر گزشت
مشتاق احمد یوسفی
پری خانہ
واجد علی شاہ اختر
خودنوشت
آئینہ خود شناسی
منشی نجم الدین قادری
فلسفہ تصوف
اردو میں خواتین کی خود نوشت سوانح عمریاں
شبانہ سلیم
اردو خود نوشت سوانح حیات: آزادی کے بعد
محمد نوشاد عالم
آئینہ در آئینہ
حمایت علی شاعر
مثنوی
جو رہی سو بے خبری رہی
ادا جعفری
خود نوشت افکار سرسید
ضیاء الدین لاہوری
افسانے خود منتخب کردہ چالیس بہترین افسانے
احمد ندیم قاسمی
قصہ / داستان
اداس لمحوں کی خود کلامی
شائستہ فاخری
افسانہ
آجکل اور غبار کارواں
محمد کاظم
تم کون ہو یہ خود بھی نہیں جانتی ہو تممیں کون ہوں یہ خود بھی نہیں جانتا ہوں میں
دیکھنا مجھ کو جو برگشتہ تو سو سو ناز سےجب منا لینا تو پھر خود روٹھ جانا یاد ہے
چراغ جلتے ہی بینائی بجھنے لگتی ہےخود اپنے گھر میں ہی گھر کا نشاں نہیں ملتا
ٹھیک ہے خود کو ہم بدلتے ہیںشکریہ مشورت کا چلتے ہیں
اپنے ہر ہر لفظ کا خود آئنہ ہو جاؤں گااس کو چھوٹا کہہ کے میں کیسے بڑا ہو جاؤں گا
کس لئے دیکھتی ہو آئینہتم تو خود سے بھی خوبصورت ہو
اتنا مانوس نہ ہو خلوت غم سے اپنیتو کبھی خود کو بھی دیکھے گا تو ڈر جائے گا
ہم کو مٹا سکے یہ زمانہ میں دم نہیںہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
قہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حور
کسی کے واسطے راہیں کہاں بدلتی ہیںتم اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books