aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "سوئے"
مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیںجو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
اے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئی
اس سفر میں نیند ایسی کھو گئیہم نہ سوئے رات تھک کر سو گئی
آج سوئے ہیں تہ خاک نہ جانے یہاں کتنےکوئی شعلہ کوئی شبنم کوئی مہتاب جبیں تھا
رقص مے تیز کرو ساز کی لے تیز کروسوئے مے خانہ سفیران حرم آتے ہیں
کانٹے پھولوں کے مقابلے میں ساری متضاد صفات رکھتے ہیں ۔ وہ سخت ہوتے ہیں ، بد صورت ہوتے ہیں ، چبھ کر تکلیف پہنچاتے ہیں لیکن ان کا یہ سارا کردار ظاہر ہوتاہے ۔ اس میں کوئی دوغلہ پن نہیں ہوتا وہ پھولوں کی طرح اپنی ظاہری چمک دمک سے لوگوں کو دھوکہ نہیں دیتے ۔ یہ اور اس طرح کے بہت سے موضوعات ہمارے منتخب کردہ ان شعروں میں نظر آئیں گے ۔ ان شعروں میں آپ یہ بھی دیکھیں گے کہ کس طرح پھول اور کانٹوں کے بارے ہمارے عمومی تصورات ٹوٹ پھوٹ گئے ہیں ساتھ ہی یہ بھی محسوس کریں گےکہ کس طرح پھول اور کانٹوں کا استعارہ زندگی کی کتنی متنوع جہتوں کو سموئے ہوئے ہے ۔
सौएسَوئے
ایک خوشبودار ساگ ، سویا (رک) کی مغیرہ حالت (تراکیب میں مستعمل).
सू-ए-ज़मींسُوئے زَمیں
towards Earth
सू-ए-गुलशनسوئے گلشن
towards garden
सू-ए-गुल्सिताँسوئے گلستاں
سوئے مقتل
سید امین گیلانی
مجموعہ
سوئے انشائیہ اور سوانحی انشائیے
قدیر زماں
مضامین
سوئے حجاز
حیدر قریشی
سفر نامہ
سوئے حرم چلا
سید جلال الدین عمری
پھر سوئے حرم
صادق قریشی
سوئے غزل
پنا لعل نور
شاعری
گوری سوئے سیج پر
صالحہ عابد حسین
ناول
پھر سوئے حرم لے چلے
سہیل انجم
خواتین کی تحریریں
سوئے ندیا جاگے پانی
انیس مرزا
سوئے حرم
سید آفتاب عظیم
سوئے وادی کا شغر
اجمل سعید پراچہ
ہندوستان اسلام کے سائے میں
سید عابد علی وجدی الحسینی
ہندوستانی تاریخ
خدا کے سائے میں آنکھ مچولی
رحمن عباس
تاریخ اسلام
وہ اک ہجوم مے کشاںہے سوئے مے کدہ رواں
دیر سے سوئے حرم آیا نہ ٹکہم مزاج اپنا ادھر لائے بہت
اس طرح سوئے ہیں سر رکھ کے مرے زانو پراپنی سوئی ہوئی قسمت کو جگا بھی نہ سکوں
جب ہاتھ کی ریکھائیں چپ تھیںاور سر سنگیت میں سوئے تھے
رات کیا سوئے کہ باقی عمر کی نیند اڑ گئیخواب کیا دیکھا کہ دھڑکا لگ گیا تعبیر کا
جب بھی دل کھول کے روئے ہوں گےلوگ آرام سے سوئے ہوں گے
پھر بولے دیکھ کر سوئے شبیر نامدارآ اے حسین آ تری باتوں کے میں نثار
اندھیرے ڈھل گئے روشن ہوئے منظر زمیں جاگی فلک جاگا تو جیسے جاگ اٹھی زندگانیمگر کچھ یاد ماضی اوڑھ کے سوئے ہوئے لوگوں کو لگتا ہے جگانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے
ماضی پہ ندامت ہو تمہیں یا کہ مسرتخاموش پڑا سوئے گا واماندۂ الفت
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books