کانٹے پر شاعری

کانٹے پھولوں کے مقابلے میں ساری متضاد صفات رکھتے ہیں ۔ وہ سخت ہوتے ہیں ، بد صورت ہوتے ہیں ، چبھ کر تکلیف پہنچاتے ہیں لیکن ان کا یہ سارا کردار ظاہر ہوتاہے ۔ اس میں کوئی دوغلہ پن نہیں ہوتا وہ پھولوں کی طرح اپنی ظاہری چمک دمک سے لوگوں کو دھوکہ نہیں دیتے ۔ یہ اور اس طرح کے بہت سے موضوعات ہمارے منتخب کردہ ان شعروں میں نظر آئیں گے ۔ ان شعروں میں آپ یہ بھی دیکھیں گے کہ کس طرح پھول اور کانٹوں کے بارے ہمارے عمومی تصورات ٹوٹ پھوٹ گئے ہیں ساتھ ہی یہ بھی محسوس کریں گےکہ کس طرح پھول اور کانٹوں کا استعارہ زندگی کی کتنی متنوع جہتوں کو سموئے ہوئے ہے ۔

نہ ہم سفر نہ کسی ہم نشیں سے نکلے گا

ہمارے پاؤں کا کانٹا ہمیں سے نکلے گا

راحتؔ اندوری

بری سرشت نہ بدلی جگہ بدلنے سے

چمن میں آ کے بھی کانٹا گلاب ہو نہ سکا

آرزو لکھنوی

لوگ کانٹوں سے بچ کے چلتے ہیں

میں نے پھولوں سے زخم کھائے ہیں

نامعلوم

کانٹوں سے گزر جاتا ہوں دامن کو بچا کر

پھولوں کی سیاست سے میں بیگانہ نہیں ہوں

شکیل بدایونی

کانٹوں سے دل لگاؤ جو تا عمر ساتھ دیں

پھولوں کا کیا جو سانس کی گرمی نہ سہ سکیں

befriend the thorns for they will be loyal until death

what of these flowers that will wilt with just a burning breath

befriend the thorns for they will be loyal until death

what of these flowers that will wilt with just a burning breath

اختر شیرانی

ہم نے کانٹوں کو بھی نرمی سے چھوا ہے اکثر

لوگ بے درد ہیں پھولوں کو مسل دیتے ہیں

بسمل سعیدی

بہت حسین سہی صحبتیں گلوں کی مگر

وہ زندگی ہے جو کانٹوں کے درمیاں گزرے

جگر مراد آبادی

پھول کر لے نباہ کانٹوں سے

آدمی ہی نہ آدمی سے ملے

خمارؔ بارہ بنکوی

خار حسرت بیان سے نکلا

دل کا کانٹا زبان سے نکلا

داغؔ دہلوی

آرام کیا کہ جس سے ہو تکلیف اور کو

پھینکو کبھی نہ پاؤں سے کانٹا نکال کے

what good relief if it may cause others any pain

let the thorn embedded in your sole remain

what good relief if it may cause others any pain

let the thorn embedded in your sole remain

نامعلوم

کوئی سمجھے گا کیا راز گلشن

جب تک الجھے نہ کانٹوں سے دامن

فنا نظامی کانپوری

کانٹے تو خیر کانٹے ہیں اس کا گلہ ہی کیا

پھولوں کی واردات سے گھبرا کے پی گیا

ساغر صدیقی

گلشن پرست ہوں مجھے گل ہی نہیں عزیز

کانٹوں سے بھی نباہ کئے جا رہا ہوں میں

جگر مراد آبادی

پھولوں کی تازگی ہی نہیں دیکھنے کی چیز

کانٹوں کی سمت بھی تو نگاہیں اٹھا کے دیکھ

اسعد بدایونی

کانٹوں پہ چلے ہیں تو کہیں پھول کھلے ہیں

پھولوں سے ملے ہیں تو بڑی چوٹ لگی ہے

جاوید وششٹ

زخم بگڑے تو بدن کاٹ کے پھینک

ورنہ کانٹا بھی محبت سے نکال

محبوب خزاں

رک گیا ہاتھ ترا کیوں باصرؔ

کوئی کانٹا تو نہ تھا پھولوں میں

باصر سلطان کاظمی

کانٹا سا جو چبھا تھا وہ لو دے گیا ہے کیا

گھلتا ہوا لہو میں یہ خورشید سا ہے کیا

ادا جعفری

کانٹے سے بھی نچوڑ لی غیروں نے بوئے گل

یاروں نے بوئے گل سے بھی کانٹا بنا دیا

اسلم کولسری

پھولوں کو گلستاں میں کب راس بہار آئی

کانٹوں کو ملا جب سے اعجاز مسیحائی

فگار اناوی

نہیں کانٹے بھی کیا اجڑے چمن میں

کوئی روکے مجھے میں جا رہا ہوں

نامعلوم

ایک نشتر ہے کہ دیتا ہے رگ جاں کو خراش

ایک کانٹا ہے کہ پہلو میں چبھوتا ہے کوئی

مہدی علی خان ذکی لکھنوی

کانٹا ہوا ہوں سوکھ کے یاں تک کہ اب سنار

کانٹے میں تولتے ہیں مرے استخواں کا بوجھ

مصحفی غلام ہمدانی