aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "سکا"
رام چندر سکا
مصنف
انتشارات سکہ، ایران
ناشر
بسمل الہ آبادی
1899 - 1975
شاعر
سیا سچدیو
born.1967
نین سکھ
born.1750
سید نظیر حسن سخا دہلوی
died.1933
سپہ دار خان بیگن
سہا مجددی
1892 - 1947
رائے سرب سکھ دیوانہ
1727 - 1788/89
سیا رام پرہری
سہا سہا مجدی
سائیں سچا
سکھ دیال سکسینہ
1888 - 1921
محمد اکرم سرا
مدیر
سکھ منی
تم مجھ کو جان کر ہی پڑی ہو عذاب میںاور اس طرح خود اپنی سزا بن گیا ہوں میں
گھنیری زلفوں کے سائے میں چھپ کے جی لیتامگر یہ ہو نہ سکا اور اب یہ عالم ہے
ہم سے کیا ہو سکا محبت میںخیر تم نے تو بے وفائی کی
ہم نے سینے سے لگایا دل نہ اپنا بن سکامسکرا کر تم نے دیکھا دل تمہارا ہو گیا
اب تک تو دل کا دل سے تعارف نہ ہو سکامانا کہ اس سے ملنا ملانا بہت ہوا
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
ہجر محبّت کے سفر میں وہ مرحلہ ہے , جہاں درد ایک سمندر سا محسوس ہوتا ہے .. ایک شاعر اس درد کو اور زیادہ محسوس کرتا ہے اور درد جب حد سے گزر جاتا ہے تو وہ کسی تخلیق کو انجام دیتا ہے . یہاں پر دی ہوئی پانچ نظمیں اسی درد کا سایہ ہے
یہاں وہ غزلیں دی جا رہی ہیں جسمیں جسے اکثر ریڈیو پر سنا جاتا تھا
सकाسَکا
could
سکہ جات شاہان اودھ
حکیم سید شمس اللہ قادری
کوئی رسم بھی نہ نبھا سکا
سعد اللہ شاہ
سکہ اور شرح تبادلہ
سید محمد احمد کاظمی
دیگر
کھوٹا سکہ
شین مظفرپوری
ناول
فہرست سکہ ہائے سلاطین ہند
نواب محمد عبد العزیز خان
بات جو کہہ نہ سکا
جینت پرمار
غزل
ایک خطبہ جو دیا نہ جا سکا
رشید احمد صدیقی
ٹوٹا ہوا سکہ
محمد رحیم چمن دہلوی
جاسوسی
قانون سکہ جات علاقہ سرکار عالی
مولوی محمد رحمت اللہ
قانون سکہ قرطاس ممالک محروسہ سرکار عالی
نامعلوم مصنف
قانون / آئین
اصول علم حساب جزئیات وکلیات
ریاضی
سکہ خاک
سلطان سبحانی
راکھ
دت بھارتی
گرونانک دیو
گوپال سنگھ
سکھ ازم
سپنا سا لگے
خدیجہ خان
اپنا مثالیہ مجھے اب تک نہ مل سکاذروں کو آفتاب بناتا رہا ہوں میں
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نےمن اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا
کچھ ایسا ہے یہ میں جو ہوں یہ میں اپنے سوا ہوں ''میں''سو اپنے آپ میں شاید نہیں واقع ہوا ہوں میں
محسنؔ میں اس سے کہہ نہ سکا یوں بھی حال دلدرپیش ایک تازہ مصیبت اسے بھی تھی
بد قسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہو سکاہم جس پہ مر مٹے وہ ہمارا نہ ہو سکا
گدلے آسمان کی طرف بغیر کسی ارادے کے دیکھتے دیکھتے سراج الدین کی نگاہیں سورج سے ٹکرائیں۔ تیز روشنی اس کے وجود کے رگ و ریشے میں اتر گئی اور وہ جاگ اٹھا۔ اوپر تلے اس کے دماغ پر کئی تصویریں دوڑ گئیں۔ لوٹ۔۔۔ آگ۔۔۔ بھاگم بھاگ۔۔۔ اسٹیشن۔۔۔ گولیاں۔۔۔ رات...
ہم جس کے ہو گئے وہ ہمارا نہ ہو سکایوں بھی ہوا حساب برابر کبھی کبھی
کیوں پشیماں ہو اگر وعدہ وفا ہو نہ سکاکہیں وعدے بھی نبھانے کے لئے ہوتے ہیں
گو اپنے ہزار نام رکھ لوںپر اپنے سوا میں اور کیا ہوں
جو میں کہہ نہیں سکا تم سےوہ ایک ربط
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books