aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".daza"
پنڈت دیا شنکر نسیم لکھنوی
1811 - 1845
شاعر
عباس دانا
born.1942
کنول ضیائی
1927 - 2012
بشیر دادا
دارا شکوہ
1615 - 1659
مصنف
سوامی وویکا نند
1863 - 1902
طفل دارا
داتا گنج بخش
طفیل دارا
بانگ درا پبلیکیشنز، حیدرآباد
ناشر
دعوۃ اکیڈمی، اسلام آباد
سید شاہ محمد بلال رضوی دانا پوری
شیخ علی ہجویری
ہندوستانی دوا گھر، امرتسر
منشی دیا نرائن نگم
1882 - 1942
یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیںوفا داری کا دعویٰ کیوں کریں ہم
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہےآخر اس درد کی دوا کیا ہے
چاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوں
عالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہے
میں خدا کا نام لے کر پی رہا ہوں دوستوزہر بھی اس میں اگر ہوگا دوا ہو جائے گا
ممتاز فلم ساز و ہدایت کار، فلم نغمہ نگار اور افسانہ نگار۔ مرزا غالب پر ٹیلی ویژن سیریل کے لئے مشہور۔ ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ
ہندوستان کے ممتاز ترین ترقی پسند غزل گو شاعر۔ ممتاز فلم نغمہ نگار۔ دادا صاحب پھالکے اعزاز سے سرفراز
डा ڈا
سِتار کی گت کا ایک توڑا.
दाया دایا
دائی کی تذکیر، دائی کا خاوند
پراکرت, فارسی
दया دَیا
رحم، کرم، ترس، مہربانی، عنایت
سنسکرت
दाया دایَہ
دائی کا کام کرنے والی، بچے کو پرورش کرنے والی عورت، بچّے کو دودھ پلانے والی عورت جو بچّے کی دیکھ بھال بھی کرتی ہے، آیا، دائی، قابِلہ، رضاعی ماں
فارسی
بانگ درا
علامہ اقبال
شاعری
یوسف سلیم چشتی
شرح
شرح بانگ درا
شفیق احمد
خواجہ حمید یزدانی
گلزار نسیم
مثنوی
یونانی دوا سازی
حکیم محمد مستان علی
طب یونانی
ان داتا
کرشن چندر
افسانہ
سفینۃ الاولیا
تصوف
مطالب بانگ درا
غلام رسول مہر
نظم
رسالہ حق نما
فلسفہ
سکینۃ الاولیاء
قادریہ
مثنوی گلزار نسیم
مجموعہ
نہ دواۓ درد جگر ہوں میں نہ کسی کی میٹھی نظر ہوں میںنہ ادھر ہوں میں نہ ادھر ہوں میں نہ شکیب ہوں نہ قرار ہوں
جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیںدبا دبا سا سہی دل میں پیار ہے کہ نہیں
عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانادرد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
یہ کس کا تصور ہے یہ کس کا فسانا ہےجو اشک ہے آنکھوں میں تسبیح کا دانا ہے
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیادیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا
اے خدا درد دل ہے بخشش دوستآب و دانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں
ہم نہیں وہ جو کریں خون کا دعویٰ تجھ پربلکہ پوچھے گا خدا بھی تو مکر جائیں گے
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہےڈاکا تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایادرد کی دوا پائی درد بے دوا پایا
اپنی تسبیح رہنے دے زاہددانہ دانہ شمار کون کرے
میں نے دنیا سے الگ رہ کے بھی دیکھا جوادؔایسی منہ زور اداسی کی دوا کچھ بھی نہیں
افسردہ ہوں عبرت سے دوا کی نہیں حاجتغم کا مجھے یہ ضعف ہے بیمار نہیں ہوں
ہاں دوا دو مگر یہ بتلا دومجھ کو آرام تو نہیں ہوگا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books