aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".fim"
مہر فام
born.1999
شاعر
بمحمود پریس فی المدرسۃ النظامیہ ببلدۃ حیدرآباد
ناشر
مولانا زین العابدین المعروفی الاعظمی
مصنف
فی المدینہ لا یدن الحروسۃ
مرکز میکرو فیلم نور، نئی دہلی
محکمہ فلم و مطبوعات وزارت اطلاعات و نشریات حکومت پاکستان
طبع فی دارالطبع لحکومۃ، حیدرآباد
اداکار فلم ڈائجسٹ پبلی کیشنز، نئی دہلی
فلم اسٹیج کانونٹ روڈ، کلکتہ
ادارہ حلقۂ فکرودانش، کراچی
فلم گوئرز لائبریری، لاہور
قد طبع فی المطبع عزیزی،دکن
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آآ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
محبوب کا گھر ہو کہ بزرگوں کی زمینیںجو چھوڑ دیا پھر اسے مڑ کر نہیں دیکھا
نہیں دنیا کو جب پروا ہماریتو پھر دنیا کی پروا کیوں کریں ہم
نہ یہ کہ وہ چلے تو کہکشاں سی رہ گزر لگےمگر وہ ساتھ ہو تو پھر بھلا بھلا سفر لگے
معروف فلم گیت کار اور شاعر
پاکستان کے ممتاز ترین جدید شاعروں میں شامل۔ فلموں کے لئے گیت بھی لکھے
ممتاز ترین جدید شاعروں میں شامل، مقبول عام شاعر۔ ممتاز فلم نغمہ نگار اور نثر نگار، اپنی غزل ’کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا۔۔۔۔‘ کے لئے مشہور
फिर پِھر
مزید برآن ، اس کے علاوہ .
फिर के پِھر کے
again
फिर से پِھر سے
ہندی
دوبارہ، از سر نو، نئے سر سے
तो-फिर تو پھر
۔جزا کے جملے پر آتا ہے۔ ع
الطاف القدس فی معرفۃ لطائف النفس
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
فلسفہ تصوف
ہندوستانی فلم کا آغاز و ارتقا
الف انصاری
تفریحات
حقیقت روح انسانی
امام محمد غزالی
پھر میں ہدایت پاگیا
سید محمد تیجانی سماوی
خودنوشت
مسالک السالکین فی تذکرۃ الواصلین
مرزا عبد الستار بیگ سہسرامی
قادریہ
تبیین الکلام فی تفسیر التوراۃ و الانجیل علی ملۃ الاسلام
سر سید احمد خاں
تقابلی مطالعہ
فلم رائٹر کیسے بنیں؟
ایس خان
کوکب دری فی فضائل علی
سید محمد صالح کشفی
اخبار الاخیار فی اسرار الابرار
عبد الحق محدث دہلوی
تذکرہ
فسانے منٹو کے اور پھر بیاں اپنا
خالد اشرف
افسانہ تنقید
احرار اسلام
ابوالکلام آزاد
اسلامیات
سماع اور دیگر اصطلاحات
نشر الطیب
مولانا اشرف علی تھانوی
روح المطالب فی شرح دیوان غالب
شاداں بلگرامی
شرح
جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجودپھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
پھر آخر تنگ آ کر ہم نےدونوں کو ادھورا چھوڑ دیا
ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہےعشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلےبہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
ہم بھی مجبوریوں کا عذر کریںپھر کہیں اور مبتلا ہو جائیں
دل تو چمک سکے گا کیا پھر بھی ترش کے دیکھ لیںشیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی
پھر مجھ کو چاہنے کا تمہیں کوئی حق نہیںتنہا کراہنے کا تمہیں کوئی حق نہیں
بعد بھی تیرے جان جاں دل میں رہا عجب سماںیاد رہی تری یہاں پھر تری یاد بھی گئی
دیکھنا مجھ کو جو برگشتہ تو سو سو ناز سےجب منا لینا تو پھر خود روٹھ جانا یاد ہے
رگ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتاجسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا
ہر رگ خوں میں پھر چراغاں ہوسامنے پھر وہ بے نقاب آئے
کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناںپھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائلجب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوںنہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books