aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".ivej"
اویس سید
born.1995
شاعر
ثاقب آویز
مدیر
اوون وسٹر
مصنف
اس نزاکت کا برا ہو وہ بھلے ہیں تو کیاہاتھ آویں تو انہیں ہاتھ لگائے نہ بنے
چوں شمع سوزاں چوں ذرہ حیراں ز مہر آں مہ بگشتم آخرنہ نیند نیناں نہ انگ چیناں نہ آپ آوے نہ بھیجے پتیاں
حضرت ناصح گر آویں دیدہ و دل فرش راہکوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ سمجھاویں گے کیا
ہائے اس جسم کے کمبخت دل آویز خطوطآپ ہی کہیے کہیں ایسے بھی افسوں ہوں گے
اب صبح و شام شاید گریے پہ رنگ آوےرہتا ہے کچھ جھمکتا خوناب چشم تر میں
ہجر محبّت کے سفر میں وہ مرحلہ ہے , جہاں درد ایک سمندر سا محسوس ہوتا ہے .. ایک شاعر اس درد کو اور زیادہ محسوس کرتا ہے اور درد جب حد سے گزر جاتا ہے تو وہ کسی تخلیق کو انجام دیتا ہے . یہاں پر دی ہوئی پانچ نظمیں اسی درد کا سایہ ہے
مقبول ترین اردو شاعروں میں شامل ، شدید رومانی شاعری کے لئے مشہور
زمانے بیت گئے مگر محمد رفیع آج بھی اپنی آواز کی ساحری کے زور پر ہرکسی کے دل پر اپنی حکومت جمائے ہوئے ہیں ، ان کے گائے ہوئے بھجن ، اورنغموں کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔ آج ہم آپ کے لئے کچھ مشہورو معروف شاعروں کی ایسی غزلیں لے کر حاضر ہوئے ہیں جنہیں محمد رفیع نے اپنی آواز دی ہے اور ان غزلوں کے حسن میں لہجے اور آواز کا ایسا جادو پھونکا ہے کہ آدمی سنتا رہے اور سر دھنتا رہے ۔
आवेآوے
آوا کی جمع یا مغیرہ حالت، ترکیبات میں مستعمل، کمھار کی بھٹی جس میں کچے برتن پکائے جاتے ہیں
oweowe
مالِک
eweewe
aweawe
ہَیبَت
ضوابط عشاق
رشید الدین خاں
مثنوی
شعر دل آویز
طاہر حمید تنولی
شاعری
رات گئی دن نکلا
تاریخی
چہار عالم
راشدالخیری
قصہ / داستان
منشی سید الدین خان
یہ ضد کہ آج نہ آوے اور آئے بن نہ رہےقضا سے شکوہ ہمیں کس قدر ہے کیا کہئے
جو کوئی آوے ہے نزدیک ہی بیٹھے ہے ترےہم کہاں تک ترے پہلو سے سرکتے جاویں
معیار سے سوا یہاں رفتار چاہیےجوادؔ اس کو آخری اوور نہ دیجیو
معشوق اپنے پاس نہ دے اس کو بیٹھنےآوے جو رات کو تو نکالے وہیں اسے
یہی شیخ حرم ہے جو چرا کر بیچ کھاتا ہےگلیم بوذر و دلق اویس و چادر زہرا
عید تو آ کے مرے جی کو جلاوے افسوسجس کے آنے کی خوشی ہو وہ نہ آوے افسوس
جنوری کی ایک شام کو ایک خوش پوش نوجوان ڈیوس روڈ سے گزر کر مال روڈ پر پہنچا اور چیرنگ کراس کا رخ کر کے خراماں خراماں پٹری پر چلنے لگا۔ یہ نوجوان اپنی تراش خراش سے خاصا فیشن ایبل معلوم ہوتا تھا۔ لمبی لمبی قلمیں، چمکتے ہوئے بال، باریک...
اس نور کے سبب نظر آتی ہیں روٹیاںآوے توے تنور کا جس جا زباں پہ نام
جب نام ترا لیجیے تب چشم بھر آوےاس زندگی کرنے کو کہاں سے جگر آوے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books