aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".luck"
لکی فاروقی حسرت
born.1990
شاعر
حاجی لق لق
1898 - 1961
جے پرکاش نرائن
1902 - 1979
مصنف
لوک ورثہ اشاعت گھر، پاکستان
ناشر
کرنل ایچ۔ڈی۔ لو
لوئی بل
ادبی مخنف لوط بن یحیٰ
ہنڈرک ویلیم ون لون
لہسو
پیر لوئی
لوک درشی
اماتر لوک
لولوآفسیٹ پرنٹرس،حیدرآباد
ڈیوڈ لو
ایل لاک ہارٹ
کبھی نہ کھینچا شرارت سے جس کا آنچل بھیرچا سکی مری آنکھوں میں جو نہ کاجل بھیوہ ماں جو میرے لئے تتلیاں پکڑ نہ سکیجو بھاگتے ہوئے بازو مرے جکڑ نہ سکیبڑھایا پیار کبھی کر کے پیار میں نہ کمیجو منہ بنا کے کسی دن نہ مجھ سے روٹھ سکیجو یہ بھی کہہ نہ سکی جا نہ بولوں گی تجھ سےجو ایک بار خفا بھی نہ ہو سکی مجھ سےوہ جس کو جوٹھا لگا منہ کبھی دکھا نہ سکاکثافتوں پہ مری جس کو پیار آ نہ سکاجو مٹی کھانے پہ مجھ کو کبھی نہ پیٹ سکینہ ہاتھ تھام کے مجھ کو کبھی گھسیٹ سکیوہ ماں جو گفتگو کی رو میں سن کے میری بڑکبھی جو پیار سے مجھ کو نہ کہہ سکی گھامڑشرارتوں سے مری جو کبھی الجھ نہ سکیحماقتوں کا مری فلسفہ سمجھ نہ سکیوہ ماں کبھی جسے چونکانے کو میں لک نہ سکامیں راہ چھینکنے کو جس کے آگے رک نہ سکاجو اپنے ہاتھ سے بہروپ میرے بھر نہ سکیجو اپنی آنکھوں کو آئینہ میرا کر نہ سکیگلے میں ڈالی نہ باہوں کی پھول مالا بھینہ دل میں لوح جبیں سے کیا اجالا بھیوہ ماں کبھی جو مجھے بدھیاں پہنا نہ سکیکبھی مجھے نئے کپڑوں سے جو سجا نہ سکیوہ ماں نہ جس سے لڑکپن کے جھوٹ بول سکانہ جس کے دل کے دراں کنجیوں سے کھول سکاوہ ماں میں پیسے بھی جس کے کبھی چرا نہ سکاسزا سے بچنے کو جھوٹی قسم بھی کھا نہ سکا
بستر میں لیٹے لیٹےاس نے سوچا''میں موٹا ہوتا جاتا ہوںکل میں اپنے نیلے سوٹ کوآلٹر کرنےدرزی کے ہاں دے آؤں گانیا سوٹ دو چار مہینے بعد سہی!درزی کی دوکان سے لگ کرجو ہوٹل ہےاس ہوٹل کیمچھلی ٹیسٹی ہوتی ہےکل کھاؤں گالیکن مچھلی کی بو سالیہاتھوں میں بس جاتی ہےکل صابن بھی لانا ہےگھر آتےلیتا آؤں گااب کے ''یارڈلی'' لاؤں گاآفس میں کل کام بہت ہےباس اگر ناراض ہوا تودو دن کی چھٹی لے لوں گااور اگر موڈ ہوا توچھ کے شو میں''رام اور شیام'' بھی دیکھ آؤں گاپکچر اچھی ہے سالینو سے بارہکلب رمیدو دن سے لک اچھا ہےکل بھی ساٹھ روپے جیتا تھاآج بھی تیس روپے جیتا ہوںاور امید ہےکل بھی جیت کے آؤں گابس اب نیند آئے تو اچھاکل بھیجیت کےنیند آئے تواکا دکی نہلہ دہلہاینٹ کی بیگممچھلی کی بوتاش کے پتےجوکر جوکرسوٹ پہن کرموٹا تگڑا جوکر....اتنا بہت سا سوچ کے وہسویا تھا مگرپھر نہ اٹھا!!دوسرے دن جباس کا جنازہدرزی کی دوکان کے پاس سے گزرا توہوٹل سے مچھلی کی بودور دور تک آئی تھی!!!
Firaun (Pharaoh) is the term used for the ancient rulers of Copts (native Egyptians) who were mainly located in the modern-day Egypt. It was foretold that an Israelite would bring about Firaun’s death. In order to save himself, Firaun ordered that all Israelite children be killed every alternate year. In...
اجل اجل کومل کومل چمکیلا چمکیلا چاندنئی نویلی دلہن جیسا شرمیلا شرمیلا چاندوہ دیکھو وہ مسکاتا بل کھاتا لے کر انگڑائیاک بادل کی اوٹ سے نکلا چنچل شوخ سجیلا چانداجلی رنگت گورا مکھڑا اس پہ روپہلی ہے پوشاکتاروں کے جھرمٹ میں کیسا لگتا ہے بھڑکیلا چاندروپ انوپ کی ناؤ پہ بیٹھا کرنوں کی پتوار لئےنیل گگن میں تیر رہا ہے سندر چھیل چھبیلا چاندہم بھی چور سپاہی لک چھپ آنکھ مچولی کھلیں گےتاروں کے سنگ کھیل رہا ہے اونچا نیچا ٹیلہ چاندامی میرا چاند تو دیکھو بالو شاہی جیسا ہےنکہت باجی کا ہے کیسا کڑوا اور کسیلا چاندکرنوں کی سیڑھی کے سہارے چھت پر تو آ پہنچا ہےآنگن میں پانی نہ گراؤ ہو جائے گا گیلا چاندچندا ماموں چندا ماموں کہتے کہتے منہ سوکھےپھر بھی اپنے پاس نہ آئے ضدی اور ہٹیلا چاندمنا آغوں آغوں کر کے جب بھی اپنے پاس بلائےدھم سے آنگن میں آ کودے اخترؔ رنگ رنگیلا چاند
Nal, the son of Veerasen, was king of Nishadha kingdom. He was a scholar of the Vedas, remarkably handsome, courageous, and a charioteer extraordinary. He had but a habit of playing chausar that proved a tragic flaw of his character and tested him through a terrible phase of his life....
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
लोक-गीत
عید ایک تہوار ہے اس موقعے پر لوگ خوشیاں مناتے ہیں لیکن عاشق کیلئے خوشی کا یہ موقع بھی ایک دوسری ہی صورت میں وارد ہوتا ہے ۔ محبوب کے ہجر میں اس کیلئے یہ خوشی اور زیادہ دکھ بھری ہوجاتی ہے ۔ کبھی وہ عید کا چاند دیکھ کر اس میں محبوب کے چہرے کی تلاش کرتا ہے اور کبھی سب کو خوش دیکھ کر محبوب سے فراق کی بد نصیبی پر روتا ہے ۔ عید پر کہی جانے والی شاعری میں اور بھی کئی دلچسپ پہلو ہیں ۔ ہمارا یہ شعری انتخاب پڑھئے ۔
लूلُو
سنسکرت
وہ گرم ہوا، جو گرمی کے موسم میں چلتی ہے، باد سموم
लूँلُوں
لُو، باد گرم، سُموم، وہ گرم ہوا جو وسط گرمی میں چلتی اور جسم کو جھلسے دیتی ہے
रुकرُک
رُکنا کا حاصلِ مصدر، تراکیب میں مستعمل ، جیسے : رُک جانا، ڈرکر رُک رہنا وغیرہ
तुकتک
قافیہ، مجع، اپنی طرف سے بنائی ہوئی بات، زٹل
اردو میں لوک ادب
قمر رئیس
زبان
بھارت کی لوک کتھائیں
محمد قاسم صدیقی
افسانہ
بلبل خوش نوا
افسانہ / کہانی
دیس دیس کی لوک کہانیاں
نا معلوم ایڈیٹر
لوک کہانیاں
چینی لوک کہانیاں
مقتل ابی مخنف و قیام مختار
اسلامیات
چترال کی لوک کہانیاں
غلام عمر
ہماری لوک کہانیاں
پریم پال اشک
نخشب مسعود
بلوچستان کی لوک کہانیاں
جمیل زبیری
سرائیکی لوک گیت
مہر عبدالحق
ترجمہ
بھارت کی لوک کہانیاں
نامعلوم مصنف
کہانی
جرمن لوک کہانیاں
گوجری پہاڑی لوک گیت
غلام حسین اظہر
لوک گیت
چھپ لک کے بام و در سے گلی کوچے میں سے میرؔمیں دیکھ لوں ہوں یار کو اک بار ہر طرح
ہم سے بھلی چال چلی چاندنیسوئے تو لک چھپ کے ٹلی چاندنی
پرانی بہت پرانی کائی لگی دیوارلکھوری اینٹوں کیاتہاس نے اپنے لمبے لمبے ہاتھوں سے جوڑوں کو جس کے باندھا ہےاور گلابی بھورے سبز ملے جلے دھبوں سے جس پر لاکھ کہانیلکھ ڈالی ہےالبیلی کرنیں روز صبح چپکے سے اس پر چڑھ جاتی ہیںادھر ادھر پھر جھانکتی ہیںاور ایک ایک کرکے دبے پاؤںکونوں میں اس کے لک جاتی ہیںدوڑ دوڑ کر آنکھ مچولی کھیلتی ہیںلجا سے چور لتا نہوڑائے سر مسکاتی ہےہلکے سے اس کے دامن سے دو چار پھول ٹپک جاتے ہیںسحر اٹھتا ہے سبزہآسمان نے آج اسے پھررنگ لطافت خوشبو کا یہ کومل تحفہبھینٹ کیا ہےمن اس کا یہ دولتپا کر بھی بھر آتا ہےیہ آنند اننت نہیں ہےمگر یہی اسپرشہزاروں تاروں میں جیون دنیا کےرس بھرتا ہےاور پھر اس سے ایسے راگ نکلتے ہیںجو کبھی نہیں مرتےاس دیوار کے سائے میںاس اپون میںسرد کھڑے ہیں بالکل سیدھےساکت چپاشوک بڑی گمبھیر سوچ میں گمپرانے مندر جیسےکنول کی کلیاںہری ہری ساری پھیلائےتیر رہی ہیںاور فوارہ ہلکے ہلکے یوں چلتا ہےجیسے صبح کو بالکسوئی ماں کے ڈر سےسسک سسک کر بلکے
میں شکریہ ادا کرکے جانے لگا تو انچارج نے ہولے سے کہا، ”Good Luck and have a safe trip of Mecca‘‘...
تھوڑا تھوڑا یہ جو سہاگن رنگ اکٹھا دل میں ہوا ہےجانے کتنے بھید نچوڑے نیند گنوائی پیاس چرائیکون سے چور ہاتھوں سے لٹ کر آج یہ گھر آباد کیا ہےبرسوں سے سوندھی مٹی نے کیسی ہیکڑ جوت جگائیخوشیوں کی بوچھار جو پلٹی غم کا مکھڑا دھل سا گیا ہے
لک چھپ لک چھپ کھیلےسوتے میں مناخواب میں پاپڑ بیلے
پیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چاریہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبو کیا ہے
تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہومیں دل کسی سے لگا لوں اگر اجازت ہو
مری روشنی ترے خد و خال سے مختلف تو نہیں مگرتو قریب آ تجھے دیکھ لوں تو وہی ہے یا کوئی اور ہے
پھول شاخوں پہ کھلنے لگے تم کہوجام رندوں کو ملنے لگے تم کہوچاک سینوں کے سلنے لگے تم کہواس کھلے جھوٹ کو ذہن کی لوٹ کومیں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books