aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aadil"
عادل منصوری
1936 - 2008
شاعر
عادل راہی
born.1993
ذوالفقار عادل
born.1972
عادل رضا منصوری
born.1978
عادل اسیر دہلوی
1959 - 2014
احمد عادل
born.1952
عدیل زیدی
born.1958
عادل رشید
born.1967
عادل لکھنوی
عادل فرحت
born.1984
نینا عادل
born.1983
عادل فاروقی
عدیم ہاشمی
1946 - 2001
محفوظ الرحمان عادل
سراج اورنگ آبادی
1712 - 1764
نہ پوچھو حسن کی تعریف ہم سےمحبت جس سے ہو بس وہ حسیں ہے
میرے ٹوٹے حوصلے کے پر نکلتے دیکھ کراس نے دیواروں کو اپنی اور اونچا کر دیا
مرا قلم نہیں تسبیح اس مبلغ کیجو بندگی کا بھی ہر دم حساب رکھتا ہےمرا قلم نہیں میزان ایسے عادل کیجو اپنے چہرے پہ دہرا نقاب رکھتا ہے
کس طرح جمع کیجئے اب اپنے آپ کوکاغذ بکھر رہے ہیں پرانی کتاب کے
وہ کون تھا جو دن کے اجالے میں کھو گیایہ چاند کس کو ڈھونڈنے نکلا ہے شام سے
دشہرے کا تیوہار برائی پر اچھائی کی جیت کا جشن ہے۔ اس تیوہار کا جشن چنندہ اردو شاعری کے ساتھ منائیے۔
دوستی کا جذبہ ایک بہت پاک اور شفاف جذبہ ہے ۔ اس سے انسانوں کے درمیان ایک دوسرے کو جاننے ، سمجھنے اور ایک دوسرے کیلئے جینے کی راہیں ہموار ہوتی ہیں ۔ شاعروں نے اس اہم انسانی جذبے اور رشتے کو بہت پھیلاؤ کے ساتھ موضوع بنایا ہے ۔ دوستی پر کی جانے والی اس شاعری کے اور بھی کئی ڈائمینشن ہیں ۔ دوستی کب اور کن صورتوں میں دشمنی سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے ؟ ہم سب اگرچہ اپنی عام زندگی میں ان حالتوں سے گزرتے ہیں لیکن شعوری طور پر نہ انہیں جان پاتے ہیں اور نہ سمجھ پاتے ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور ان انجانی صورتوں سے واقفیت حاصل کیجئے ۔
موت ایک ایسا معمہ ہے جو نہ سمجھنے کا ہے اور نہ سمجھانے کا۔ شاعروں اور تخلیق کاروں نے موت اور اس کے ارد گرد پھیلے ہوئے غبار میں سب سے زیادہ ہاتھ پیر مارے ہیں لیکن حاصل ایک بےاننت اداسی اور مایوسی ہے ۔ یہاں ہم موت پر اردو شاعری سے کچھ بہترین اشعار پیش کر رہے ہیں۔
आईآئی
سنسکرت
آئی ہوئی، موصول شدہ
'आदिलعادِل
عربی
انصاف کرنے والا، عدل کرنے والا، منصف
'अदीलعَدِیل
نظیر، مانند
'आदतعادَت
خصلت، خو (جو غیر ارادی ہو)
تحریک خلافت
قاضی محمد عدیل عباسی
مذہبی تحریکیں
کتاب نورس
ابراہیم عادل شاہ ثانی
دوہا
بیربل کی کہانیاں
افسانہ
کلیات شاہی
علی عادل شاہ ثانی
کلیات
شرق مرے شمال میں
مجموعہ
اردو صحافت اور مولوی محمد باقر دہلوی
عادل فراز
تنقید
آ سہیلی بوجھ پہیلی
پہیلی
کربلا: ایک یادگار انقلاب
سید عادل اختر
اسماعیل میرٹھی
مونوگراف
اذان مجلس
نعت
اقبال کا فلسفہ حیات و شاعری
شاعری تنقید
انوکھا اسکول
عادل حیات
آسان نظمیں
نظم
بچوں کے اقبال
کوئی خودکشی کی طرف چل دیااداسی کی محنت ٹھکانے لگی
جو چپ چاپ رہتی تھی دیوار پروہ تصویر باتیں بنانے لگی
وقت کی گردشوں کا غم نہ کروحوصلے مشکلوں میں پلتے ہیں
جیتا ہے صرف تیرے لیے کون مر کے دیکھاک روز میری جان یہ حرکت بھی کر کے دیکھ
اے انفس و آفاق میں پیدا تری آیاتحق یہ ہے کہ ہے زندہ و پایندہ تری ذاتمیں کیسے سمجھتا کہ تو ہے یا کہ نہیں ہےہر دم متغیر تھے خرد کے نظریاتمحرم نہیں فطرت کے سرود ازلی سےبینائے کواکب ہو کہ دانائے نباتاتآج آنکھ نے دیکھا تو وہ عالم ہوا ثابتمیں جس کو سمجھتا تھا کلیسا کے خرافاتہم بند شب و روز میں جکڑے ہوئے بندےتو خالق اعصار و نگارندۂ آناتاک بات اگر مجھ کو اجازت ہو تو پوچھوںحل کر نہ سکے جس کو حکیموں کے مقالاتجب تک میں جیا خیمۂ افلاک کے نیچےکانٹے کی طرح دل میں کھٹکتی رہی یہ باتگفتار کے اسلوب پہ قابو نہیں رہتاجب روح کے اندر متلاطم ہوں خیالاتوہ کون سا آدم ہے کہ تو جس کا ہے معبودوہ آدم خاکی کہ جو ہے زیر سماواتمشرق کے خداوند سفیدان فرنگیمغرب کے خداوند درخشندہ فلزاتیورپ میں بہت روشنئ علم و ہنر ہےحق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظلماترعنائی تعمیر میں رونق میں صفا میںگرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بنکوں کی عماراتظاہر میں تجارت ہے حقیقت میں جوا ہےسود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگ مفاجاتیہ علم یہ حکمت یہ تدبر یہ حکومتپیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیم مساواتبیکاری و عریانی و مے خواری و افلاسکیا کم ہیں فرنگی مدنیت کی فتوحاتوہ قوم کہ فیضان سماوی سے ہو محرومحد اس کے کمالات کی ہے برق و بخاراتہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومتاحساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلاتآثار تو کچھ کچھ نظر آتے ہیں کہ آخرتدبیر کو تقدیر کے شاطر نے کیا ماتمے خانہ کی بنیاد میں آیا ہے تزلزلبیٹھے ہیں اسی فکر میں پیران خراباتچہروں پہ جو سرخی نظر آتی ہے سر شامیا غازہ ہے یا ساغر و مینا کی کراماتتو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میںہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقاتکب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہدنیا ہے تری منتظر روز مکافات
کیوں چلتے چلتے رک گئے ویران راستوتنہا ہوں آج میں ذرا گھر تک تو ساتھ دو
عاشق تھے شہر میں جو پرانے شراب کےہیں ان کے دل میں وسوسے اب احتساب کے
مجھے پسند نہیں ایسے کاروبار میں ہوںیہ جبر ہے کہ میں خود اپنے اختیار میں ہوں
دریا کے کنارے پہ مری لاش پڑی تھیاور پانی کی تہہ میں وہ مجھے ڈھونڈ رہا تھا
ذرا دیر بیٹھے تھے تنہائی میںتری یاد آنکھیں دکھانے لگی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books