aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aahat"
عبد الاحد ساز
1950 - 2020
شاعر
امت احد
born.1981
اخلاق احمد آہن
born.1974
امۃ الحئی وفا
مصنف
عبدالودود اوحد
1850 - 1882
میر علی اوسط رشک
1799 - 1867
تخلص بھوپالی
1918 - 1977
عبدالاحد آزاد
دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ، پٹنہ
ناشر
حضرت اوگھٹ شاہ وارثی
1874 - 1952
دارالاشاعت ترقی، ماسکو
مدیر
اخلاق آہن
بدیشی زبانوں کا اشاعت گھر ماسکو
دارالاشاعت رحمانی خانقاہ، مونگیر
دارالاشاعت خانقاہ امجدیہ، سیوان
بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیںتجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں
اتنے خائف کیوں رہتے ہوہر آہٹ سے ڈر جاتے ہو
آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہوسایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
رات بھر پچھلی سی آہٹ کان میں آتی رہیجھانک کر دیکھا گلی میں کوئی بھی آیا نہ تھا
عورت کو موضوع بنانے والی شاعری عورت کے حسن ، اس کی صنفی خصوصیات ، اس کے تئیں اختیار کئے جانے والے مرداساس سماج کے رویوں اور دیگر بہت سے پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے ۔ عورت کی اس کتھا کے مختلف رنگوں کو ہمارے اس انتخاب میں دیکھئے ۔
ہجرووصال کے سیاق میں آہٹ کے لفظ نے بہت سے دلچسپ اشعارکا اضافہ کیا ہے ۔ ہجر کی آگ میں جلتے ہوئے عاشق کو ہرلمحہ محبوب کے آنے کی آہٹ ہی سنائی دیتی ہے لیکن نہ وہ آتا ہے اورنہ ہی اس کے آنے کا کوئی امکان نظرآتا ہے ۔ یہ آہٹیں ہجرمیں بھوگ رہے اس کے اس دکھ میں اور اضافہ کرتی ہیں ۔ اب نہ وہ عشق رہا اورنہ ہجر کی وہ صورتیں لیکن ان آہٹوں کوتوآج بھی سنا جاسکتا ہے ۔
आहटآہَٹ
سنسکرت
آنے جانے یا چلنے کی ہلکی سی آواز، خفیف سی چاپ (اکثر پاؤں یا کسی اور قرینے کے ساتھ مستعمل)
आहतآہَت
چوٹ، گھایل، تکلیف، کسی کو تکلیف دینا، ہوت کے وقت آگ میں ڈالا جانے والا سامان
राहटراہَٹ
رہٹ (رک).
राहतراحَت
عربی
آرام، قرار، استراحت، آسائش، آسودگی، سکھ
آہٹ
اوشا شفق
غزل
ارشاد عزیز
دیوان
آہٹ
بشیر بدر
بدلتے موسم کی آہٹ
اشہر ہاشمی
مجموعہ
قاضی رئیس
دوہا
شام کی آہٹ
تاشی ظہیر
آہٹ پانچویں موسم کی
عباس رضا نیر
شارق عدیل
ستیہ پال آنند
معاشرتی
ترقی پسند اردو افسانہ اور چند اہم افسانہ نگار
اسلم جمشید پوری
فکشن تنقید
عورت
سیمون دی بووا
سماجی مسائل
عورت ایک نفسیاتی مطالعہ
خواتین کی تحریریں
اردو ادب کی اہم خواتین ناول نگار
نیلم فرزانہ
ناول تنقید
شمالی ہند کی اردو شاعری میں ایہام گوئی
حسن احمد نظامی
شاعری تنقید
اس نے بے ساختہ پھر مجھ کو پکارا ہوگاچلتے چلتے کوئی مانوس سی آہٹ پا کر
کوئی آہٹ کوئی آواز کوئی چاپ نہیںدل کی گلیاں بڑی سنسان ہیں آئے کوئی
دل پر دستک دینے کون آ نکلا ہےکس کی آہٹ سنتا ہوں ویرانے میں
اگر ممکن ہو لے لے اپنی آہٹخبر دو حسن کو میں آ رہا ہوں
سانس لینا بھی کیسی عادت ہےجئے جانا بھی کیا روایت ہے
جسے نہ آنے کی قسمیں میں دے کے آیا ہوںاسی کے قدموں کی آہٹ کا انتظار بھی ہے
نظر جھکائے ہوئے اور بدن چرائے ہوئےخود اپنے قدموں کی آہٹ سے جھینپتی ڈرتی
میں نے دن رات خدا سے یہ دعا مانگی تھیکوئی آہٹ نہ ہو در پر مرے جب تو آئے
بانس کی کھری کھاٹ کے اوپر ہر آہٹ پر کان دھرےآدھی سوئی آدھی جاگی تھکی دوپہری جیسی ماں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books