aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aar-paar"
ہند و پاک مشاعرہ کمیٹی، رامپور
ناشر
پیر مصطفیٰ الحسنی
مصنف
ایکتا پرکاشن سہارنپور یوپی
پیر سید محمد فاروق القادری
مترجم
نمبودری پاد
دارالنفائس کریم پارک، لاہور
الہدیٰ ایجوکیشنل، حاجی پور ویشالی
المجمع الاسلامی، مبارک پور، اعظم گڑھ
پس آئینہ پبلیشرز
میر وارث علی ابن میر ہدایت علی پیرزادہ
تنی ہوئی ہے دھنک کی طرح لہو کی کماںلگا وہ تیر جو منظر کے آر پار نہیں
اک نظر آر پار کر دیکھیںروح کو جسم اتار کر دیکھیں
میں نے موجوں کے تلاطم میں گہر ڈھونڈے ہیںاور پائے ہیں خزف ریزے بھی
ہاتھ جو گردنوں پر جھپٹنے لگےاور چاول کے جب چند دانے ملے
ان کی رانیں تشنۂ پیکاں رہیں گیاور وحشت سنگ ریزوں پر چلے گی
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
میرتقی میر اردو ادب کا وہ روشن ستارہ ہیں ، جن کی روشنی آج تک ادیبوں کے لئے نئے راستے ہموار کر رہی ہے - یہاں چند غزلیں دی جا رہی ہیں، جو مختلف شاعروں نے ان کی مقبول غزلوں کی زمینوں پر کہی اور انھیں خراج عقیدت پیش کی-
یہ دس ایسی غزلوں کا مجموعہ ہے جنہیں نامور گلوکاروں نے اپنی آواز دی ہے، یہ غزلیں محبت اور عشق کے شدید جذبے سے لبریز ہیں۔ ہماری یہ پیشکش آپ کے لیے خاص ہے۔ یہاں آپ ان غزلوں کو پڑھ سکتے ہیں جنہیں ابھی تک صرف سنتے رہے ہیں۔
उस पर اُس پَر
مزید برآں، علاوہ برآں
इस पर اِس پَر
اس کے علاوہ، مزید براں، پھر
हर-इक ہَر اِک
رک : ہر ایک ۔
आर آر
نوكداركیل جو بیلوں كو ہنكانے كی پینی یا سانٹے میں لگی ہوتی ہے
آر پار
فلمی نغمے
وقت کے آر پار
نعیم اختر
غزل
جہلم کے آر پار
مجیب احمد خاں
رپورتاژ
پيار ۽پاپ
ارمغان پاک
شیخ محمد اکرام
غم پر ملال
حکیم محمد شعیب
سیرت پاک
بشیر محمد شارق دہلوی
سوانح حیات
ادبیات پیر پنچال
جاوید انور
محمد عبدہ اور پان اسلامزم
حسن الاعظمی
ارشاد پیر
شاہ قیام
خیابان پاک
الطاف گوہر
Aug 1956
بھیگے پل
سرور غزالی
دائی سیجی
ترجمہ
پہلو کے آر پار گزرتا ہوا سا ہواک شخص آئنے میں اترتا ہوا سا ہو
عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیاکہ ایک عمر چلے اور گھر نہیں آیا
غبار وقت کے گر آر پار دیکھئے گاتو ایک پل میں مرا شہسوار دیکھئے گا
اک خوف بے پناہ ہے آنکھوں کے آر پارتاریکیوں میں ڈوبتا لمحہ ہے سامنے
شام ہے اور پار ندی کےایک ننھا سا بے قرار دیا
اب آر پار دھیان کی مشعل کہاں ہے زیبؔگنجان درد کا مرے اندر دھواں ہے زیبؔ
اک دھوپ سی تنی ہوئی بادل کے آر پاراک پیاس ہے رکی ہوئی جھرنے کے باوجود
غیبت اور پان کا رشتہ بہت پرانا ہے۔...
اور پار کر مجھ کو
گزر چکے ہیں بارہاخدا کے آر پار بھی
زہر پی اور ہو امرڈوب جا اور پار کر
قسم خدا کی کسی اور پر اگر گزرےیہ کیفیت کسی بھونچال کے مساوی ہے
ایک پلحد نگاہ
آر پار دیکھنے کابندھی ہوئی مٹھی اور پھیلے ہوئے ہاتھوں کے بیچ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books