aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ado"
ادا جعفری
1924 - 2015
شاعر
سراج اورنگ آبادی
1712 - 1764
بیخود دہلوی
1863 - 1955
مظفر وارثی
1933 - 2011
جمیل الدین عالی
1925 - 2015
معین نظامی
born.1965
بیگم سلطانہ ذاکر ادا
born.1929
مصنف
فرید جاوید
1927 - 1977
ملا عبدالرحمان جامی
1414 - 1492
سلطان اورنگ زیب عالمیر
1618 - 1707
عبد الحق محدث دہلوی
1551 - 1642
جمال الدین افغانی
1838 - 1897
عبدالآد شاہ قلندر وارثی
گلشن الدولہ بہار
رضوان الدین انصاری
حوصلہ ہو تو اڑو میرے تصور کی طرحمیری تخئیل کے گلزار جناں تک آؤ
آسمانوں پہ اڑو ذہن میں رکھو کہ جو چیزخاک سے اٹھتی ہے وہ خاک پہ آ جاتی ہے
شہرت کی فضاؤں میں اتنا نہ اڑو ساغرؔپرواز نہ کھو جائے ان اونچی اڑانوں میں
آسماں پر رواں سرمئی بادلوہاں تمہیں کیا اڑو اور اونچے اڑوباغ عالم کے تازہ شگفتہ گلوبے نیازانہ مہکا کرو خوش رہولیکن اتنا بھی سوچا، کبھی ظالمو!ہم بھی ہیں عاشق رنگ و بو شہر میں
عید ایک تہوار ہے اس موقعے پر لوگ خوشیاں مناتے ہیں لیکن عاشق کیلئے خوشی کا یہ موقع بھی ایک دوسری ہی صورت میں وارد ہوتا ہے ۔ محبوب کے ہجر میں اس کیلئے یہ خوشی اور زیادہ دکھ بھری ہوجاتی ہے ۔ کبھی وہ عید کا چاند دیکھ کر اس میں محبوب کے چہرے کی تلاش کرتا ہے اور کبھی سب کو خوش دیکھ کر محبوب سے فراق کی بد نصیبی پر روتا ہے ۔ عید پر کہی جانے والی شاعری میں اور بھی کئی دلچسپ پہلو ہیں ۔ ہمارا یہ شعری انتخاب پڑھئے ۔
محبت پر یہ شاعری آپ کے لیے ایک سبق کی طرح ہے، آپ اس سے محبت میں جینے کے آداب بھی سیکھیں گے اور ہجر و وصال کو گزارنے کے طریقے بھی۔ یہ پہلا ایسا خوبصورت مجموعہ ہے جس میں محبت کے ہر رنگ، ہر کیفیت اور ہر احساس کو قید کرنے والے اشعار کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ آپ انہیں پڑھیے اور محبت کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجیے۔
عید ایک تہوار ہے اس موقعے پر لوگ خوشیاں مناتے ہیں لیکن عاشق کیلئے خوشی کا یہ موقع بھی ایک دوسری ہی صورت میں وارد ہوتا ہے ۔ محبوب کے ہجر میں اس کیلئے یہ خوشی اور زیادہ دکھ بھری ہوجاتی ہے ۔ کبھی وہ عید کا چاند دیکھ کر اس میں محبوب کے چہرے کی تلاش کرتا ہے اور کبھی سب کو خوش دیکھ کر محبوب سے فراق کی بد نصیبی پر روتا ہے ۔ عید پر کہی جانے والی شاعری میں اور بھی کئی دلچسپ پہلو ہیں ، جنہیں آپ ان نظموں سے سمجھ سکتے ہیں۔
डाओڈاؤ
ڈاء : بایاں ہاتھ / پہلو، بایاں کا بگاڑ.
अयोاَیو
ایسا، مانند
dodo
کرنا
दोدو
فارسی
چند، تھوڑے (قلت افراد ظاہر کرنے کے لیے)
عود و عنبر
زاہد علی خاں اثر
غزل
سلسلہ التبلیغ کا 103 العید و والوعید
مولانا اشرف علی تھانوی
عید و تہوار
سید خواجہ محی الدین
امراؤ جان ادا: ایک خصوصی مطالعہ
شاہد جمیل
فکشن تنقید
مثنوی حضرت شمس تبریز
شمس تبریزی
مثنوی
امراؤجان ادا
مرزا ہادی رسوا
ناول
امراؤ جان ادا
ابواللیث صدیقی
امراؤ طارق
مقالات/مضامین
عود ہندی
مرزا غالب
تاریخ و تنقید
ادھ کھلا دریچہ
شہزاد احمد
امہ الانساب
Nov 2006تذکرہ
جو رہی سو بے خبری رہی
خود نوشت
غزالاں تم تو واقف ہو
نظم
عیدگاہ
پریم چند
معاشرتی
رت بدلی تو بھنوروں نے تتلی سے کہاآج سے تم آزاد ہوپروازوں کی ساری سمتیں تمہارے نام ہوئیںجاؤجنگل کی مغرور ہوا کے ساتھ اڑوبادل کے ہم راہ ستارے چھو آؤخوشبو کے بازو تھامو اور رقص کرورقص کروکہ اس موسم کے سورج کی کرنوں کا تاج تمہارے سر ہےلہراؤکہ ان راتوں کا چاند تمہاری پیشانی پر اپنے ہاتھ سے دعا لکھے گاگاؤان لمحوں کی ہوائیں تم کو تمہارے گیتوں پر سنگیت دیں گیپتے کڑے بجائیں گےاور پھولوں کے ہاتھوں میں دف ہوگا
کب تلک شہر کی گلیوں میں پھرو گے یاروآسمانوں پہ اڑو تخت سلیماں کی طرح
ذہن میں عظمت اجداد کے قصے لے کراپنے تاریک گھروندوں کے خلا میں کھو جاؤمرمریں خوابوں کی پریوں سے لپٹ کر سو جاؤابر پاروں پہ چلو، چاند ستاروں میں اڑویہی اجداد سے ورثہ میں ملا ہے تم کودور مغرب کی فضاؤں میں دہکتی ہوئی آگاہل سرمایہ کی آویزش باہم نہ سہیجنگ سرمایہ و محنت ہی سہیدور مغرب میں ہے مشرق کی فضا میں تو نہیںتم کو مغرب کے بکھیڑوں سے بھلا کیا لینا؟تیرگی ختم ہوئی سرخ شعاعیں پھیلیںدور مغرب کی فضاؤں میں ترانے گونجےفتح جمہور کے انصاف کے آزادی کےساحل شرق پہ گیسوں کا دھواں چھانے لگاآگ برسانے لگے اجنبی توپوں کے دہنخواب گاہوں کی چھتیں گرنے لگیںاپنے بستر سے اٹھونئے آقاؤں کی تعظیم کرواور پھر اپنے گھروندوں کے خلا میں کھو جاؤتم بہت دیر بہت دیر تلک سوئے رہے
جگمگاتے ہوئے قمقمے، پارک، باغات اور میوزیمسنگ مرمر کے بت، دھات کے آدمیسرد و سنگین عظمت کے پیکرآنکھیں بے نور، لب بے صدا، ہاتھ بے جانہند کی بے بسی اور محکومی کی یادگاریںسیکڑوں سال کے گرم آتش کدےزر و صندل کی آگعود و عنبر کے شعلے
جاں گداز اتنی کہاں آواز عود و چنگ ہےدل کے سے نالوں کا ان پردوں میں کچھ آہنگ ہے
بربط و عود و شراب و دف و افسانہ و افسون و شب ماہ و رباب و ساغرآ کہ مشتاق ہیں اے جان چمن زہرہ جبیں ہوش ربا ماہ لقا شمع شبستان بہار
اس صوت جاں نواز کا ثانی بنا نہیںکیا ڈھونڈتے ہو بربط و عود و رباب میں
تم اپنے رنگ نہاؤ تم اپنی موج اڑومگر ہماری وفا بھی نگاہ میں رکھنا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books