aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "alaapnaa"
شیخ حسن البنا شہید
مصنف
جی الانا
Drgulam Ali Aalana
مطبع عثمانیہ عدالت العالیہ
ناشر
ایلین میزلیش
1925 - 2017
مکتبہ الاقصیٰ، حیدرآباد
مفید الانام، حیدرآباد
معہد امام حسن البنا شہید، بھٹکل
مطبع مفید الانام، الہ آباد
دارالانس، علی گڑھ
مطبع نورالآفاق
مطبع نور الافاق، کلکتہ
ان سب نے میرے معدے میں اپنے لیےکوئی گنجائش سر الاپنا چاہوں
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میںکس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں
توڑ پیمانۂ مردان خرد مند بھی توڑبن کے طوفان چھلکنا ہے ابلنا ہے تجھے
تم نے سمجھائے مری سوچ کو آداب ادبلفظ و معنی سے الجھنا بھی تمہی سے سیکھا
پھر اگلی رت کی فکر کروجب پھر اک بار اجڑنا ہے
अलापना اَلاپْنا
۱. الاپ (رک) گانے سے پہلے آواز کا اتار چڑھاو کرنا ، لے درست کرنا ؛ سرملانا ، گانے شروع کرنا ، تانیں لگانا .
سنسکرت
आलापना آلاپْنا
رک: اَلاپنا.
उलटना اُلَٹْنا
اوندھ جانا، اوندھا ہو جانا
उलहना الہنا
الزام، تہمت، بہتان، شکایت
ہندی
یادوں کی برات
جوش ملیح آبادی
خود نوشت
مجربات فخر الاطباء
فقیر محمد چشتی نظامی
حامض الاسنان
محمد افتخارالحق
تحقیق / تنقید
بچوں کی تربیت کے راہنما اصول
ایڈیل فیبر
شخصیت
ذکر خیر الانام
حنیف اسعدی
مجموعہ
تذکرۃ الاولیائے ابوالعلائیہ
کاظم علی خاں آغا
تذکرہ
عیون الانبا فی طبقات الاطبا
ابن ابی اصیبعہ
طب
الاسماء الحسنی
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی
اسلامیات
نقشبندیہ
حسن البنا شہید ایک مطالعہ
عبد الغفار عزیز
سوانح حیات
تشریف البشر بذکرالأئمۃ الاثنیٰ عشر
نواب صدیق حسن خاں
سنا ہے بے نیازی ہی علاج ناامیدی ہےیہ نسخہ بھی کوئی دن آزما کر دیکھ لیتا ہوں
پھڑک اٹھا کوئی تیری ادائے ما عرفنا پرترا رتبہ رہا بڑھ چڑھ کے سب ناز آفرينوں میں
درد اتنا تھا کہ اس رات دل وحشی نےہر رگ جاں سے الجھنا چاہا
ایک آشفتہ سر و آبلہ پا کی خاطرکبھی زلفوں کبھی پلکوں کو بچھائے رکھا
ہر گھڑی خود سے الجھنا ہے مقدر میرامیں ہی کشتی ہوں مجھی میں ہے سمندر میرا
نقاب ان کا الٹنا تو چاہتا ہوں مگربگڑ گئے تو نظاروں کا حال کیا ہوگا
سنبھل کر اب ہواؤں سے الجھنامیں تجھ سے پیشتر بجھنے لگا ہوں
دل کا اجڑنا سہل سہی بسنا سہل نہیں ظالمبستی بسنا کھیل نہیں بستے بستے بستی ہے
جانے کس دور الم ناک سے لے کر اب تکتو کڑے وقت کے زندانوں میں خوابیدہ ہے
اٹھ کے منزل ہی اگر آئے تو شاید کچھ ہوشوق منزل تو مرا آبلہ پا ہو بیٹھا
کو پھر سے الٹنے پلٹنے لگے ہیںیہ ان کے تلے غم کی چنگاریاں پا سکیں گے
آبلہ پا کوئی اس دشت میں آیا ہوگاورنہ آندھی میں دیا کس نے جلایا ہوگا
یہ کہہ کر آبلہ پا روندتے جاتے ہیں کانٹوں کوجسے تلووں میں کر لیں جذب اسے صحرا سمجھتے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books