aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "anek"
اے ون آفسٹ پریس ،دہلی
ناشر
کیرل چپیک
مصنف
انیق احمد
انیق صدیقی
محمد یعقوب انیق
انیق جونپوری
انک لنکس پبلشنگ ہاؤس پانپور سرینگر کشمیر
مطبع آئین دکن، حیدرآباد
پرنٹ لیگی انک، دہلی
پرنٹولوجی انک
اے۔ ون آفسیٹ پریس، نئی دہلی
انیل اکیڈمی، ناروے
در انیق پریس، جونپور
مانرک انک مینوفیکچرنگ کمپنی بدایوں
این ٹیری وائٹ
1886 - 1980
شام برن اور دانت انیک لچکت جیسے ناریدونوں ہاتھ سے خسروؔ کھینچے اور یوں کہے تو آری
دیکھنے میں چاہے ہم انیک ہیںاصلیت میں سارے لوگ ایک ہیں
بہت عجیب کہانی ہے میرے عالم کیبنا صفر سے ہوں میں ایک انیک دس کی طرح
آسماں میں بھی چھو ہی سکتی تھیبیڑیاں ہیں انیک پاؤں میں
پیشانی کے آئینے پر مر مٹتے لاکھوں آکاشدیوانی دیوانی آنکھیں
سب سے پسندیدہ اور مقبول پاکستانی شاعروں میں سے ایک ، اپنے انقلابی خیالات کے سبب کئی برس قید میں رہے
ہجر محبّت کے سفر میں وہ مرحلہ ہے , جہاں درد ایک سمندر سا محسوس ہوتا ہے .. ایک شاعر اس درد کو اور زیادہ محسوس کرتا ہے اور درد جب حد سے گزر جاتا ہے تو وہ کسی تخلیق کو انجام دیتا ہے . یہاں پر دی ہوئی پانچ نظمیں اسی درد کا سایہ ہے
اہم ترقی پسند شاعر، ان کی کچھ غزلیں ’ بازار‘ اور ’ گمن‘ جیسی فلموں کے سبب مقبول
आनेآنے
آنا کی مغیرہ حالت، ترکیبات میں مستعمل
आने काآنے کا
آنے والا ، آنے کے لیے تیار ، آنے کا قادل (عموماً نفی میں مستعمل) ، جیسے : بہ جوتا پان٘و میں نہیں آنے کا .
आईनेآئِینے
آئینہ کی جمع، نیز مغیرہ حالت، ترکیبات میں مستعمل
अनेकاَنیک
سنسکرت
متعدد، کئی، کثیر، بہت سے
باغ وبہارتحقیق وتنقیدکےآئینے میں
سلیم اختر
فکشن تنقید
آئینے
آنتون چخوف
افسانہ / کہانی
دلی تاریخ کے آئینے میں
خلیق احمد نظامی
اردو زبان اور اس کا نام
کنولؔ ڈبائیوی
زبان
ہندوستانی کلچر کا ارتقا: تاریخ کے آئینے میں
تارا چند
خواتین کربلا
صالحہ عابد حسین
مرثیہ تنقید
آئین اکبری (حصہ اول)
شیخ ابو الفضل علامی
دستور
سعادت حسن منٹو:عصر حاضر کے آئینے میں
محمد حسین پرکار
ایران صدیوں کے آئینے میں
امرت لعل عشرت
معرفت نفس
حجۃ الاسلام حمید رضا مظاہری سیف
ترجمہ
آئین اکبری
قرۃ العین حیدر تحریروں کے آئینے میں
اختر سلطانہ
تیرے آنے کا انتظار رہا
رسا چغتائی
غزل
چچا چھکن کی عینک کھوئی گئی
عصمت چغتائی
افسانہ
مومن قوم اپنی تاریخ کے آئینے میں
محمد ڈینڈرولوی
ٹوٹ کر ایک سے انیک ہوابس یہی ہے کمال شیشے کا
کتنے چہروں کو یاد رکھو گےایک منظر انیک پس منظر
ہم سے جہاں انیک تھے بد تھے وہی کہ نیک تھےسچ ہی تو ہے کہ ایک تھے بود و نبود شہر میں
وہ جو نہ آنے والا ہے نا اس سے مجھ کو مطلب تھاآنے والوں سے کیا مطلب آتے ہیں آتے ہوں گے
مضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہی
طبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہے
صبح دم چھوڑ گیا نکہت گل کی صورترات کو غنچۂ دل میں سمٹ آنے والا
سر ہی اب پھوڑیے ندامت میںنیند آنے لگی ہے فرقت میں
اور جام ٹوٹیں گے اس شراب خانے میںموسموں کے آنے میں موسموں کے جانے میں
انداز اپنا دیکھتے ہیں آئنے میں وہاور یہ بھی دیکھتے ہیں کوئی دیکھتا نہ ہو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books