aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "auj-e-arsh"
بزم عرشی، حیدرآباد
ناشر
مجلس نذر عرشی، نئی دہلی
اے۔ آر۔ عرشی
حلقۂ احباب، آرا
فضل رب عرشی تاجپوری
مصنف
مکتبۂ شرف بیت الشرف، بہار شریف
چار سو عالم امکاں میں اندھیرا دیکھاتو جدھر ہے اسی جانب کو اجالا دیکھا
یاد جاناں ستاتی رہی عمر بھرخوں کے آنسو رلاتی رہی عمر بھر
اس بے وفا کے تیر نظر نے کیا یہ کامناسور بے شمار ہیں میرے جگر میں آج
رہ کے گلشن میں بھی ترسے ہیں گل تر کے لئےیہ مقدر تھا تو کیا روئیں مقدر کے لئے
ہم انتہائے جور و ستم دیکھتے رہےیعنی کہ ان کے لطف و کرم دیکھتے رہے
زلزلہ ایک قدرتی آفت ہے جس سے بعض اوقات بڑی بڑی انسانی تباہیاں ہوجاتی ہیں اور انسان کی اپنی سی ساری تیاریاں یونہی دھری رہ جاتی ہیں ۔ ہمارے منتخب کردہ یہ شعر قدرت کے مقابلے میں انسانی کمزوری اور بے بسی کو بھی واضح کرتے ہیں اور ساتھ ہی اس بے بسی سے پھوٹنے والے انسانی احتجاج اور غصے کو بھی ۔
شاعری پڑھتے ہوئے جو ایک بنیادی بات ذہن میں رکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ تخلیقی زبان لفظ کواس کے معنی اوراس سے وابستہ عمومی تصورسے بہت آگے لے جاتی ہے ۔ آسمان کلاسیکی شاعری کا ایک بنیادی استعارہ ہے اوراس استعارے کے اردگرد پھیلی ہوئی تصورات کی دنیا بھی آسمان کےعمومی تصورسے بہت مختلف ہے ۔ عشق کے باب میں آسمان ایک مضبوط کردار کے طورپرسامنے آتا ہے ۔ عاشق کے خلاف ساری چالیں وہی چلتا ہے اوراس پر ہونے والے سارے ظلم وستم اسی کی کارکردگی کا نتیجہ ہیں ۔ اسی لئےعاشق اسی کی طرف ایک نظرکرم کی امید لئےدیکھتا رہتا ہے ۔ یہ ایک چھوٹا سا انتخاب ہم آپ کیلئے پیش کررہے ہیں ۔
मय-ए-'ऐशمے عَیش
عربی, فارسی
خوشی کی شراب، آرام کی شراب، عیش کی شراب
सदा-ए-'अर्शصَدائے عَرْش
عربی
अर्श की आवाज़, ईश्वर की आवाज़, आकाशवाणी।
'अर्श-ए-सानीعَرْشِ ثانی
(مراد) کُرسی
हवा-ए-'ऐशہوائے عَیش
عیش و آرام کی فضا، ہر قسم کی راحت اور آرام کا ماحول
اوج عرش
اوج یعقوبی
ذکر عرشی
مختارالدین احمد
بزم عیش
منشی امانت علی خاں عرف امن
نذر عرشی
مالک رام
انجام عیش
قاری سرفراز حسین
یادگار عرش ملسیانی
رباعیات عیش فاروقی
سید الطاف علی بریلوی
رباعیات عرش فاروقی
اخلاقیات
انتخاب عرشی
زہرہ عرشی
انتخاب
سزائے عیش
محمد سرفراز حسین عزمی دہلوی
سوانح حیات
خمارعیش
نامعلوم مصنف
دیوان غالب
امتیاز علی عرشی
کلیات عرش ملسیانی
کلیات
طبیعت بے نیاز لذت غم ہوتی جاتی ہےکسی سے کیا مری دل بستگی کم ہوتی جاتی ہے
جو عشق و وفا میں ڈوبا ہو دکھ درد جو اوروں کا سمجھےہم تجھ سے خداوندا ایسے اک دل کی تمنا کرتے ہیں
بلندی نام سے اے عرشؔ مل سکتی نہیں تجھ کوزمین شعر پر اوج سخن سے آسماں ہو جا
نہ کوئی ہم خیال اے عرشؔ پایارہے ہم انجمن میں بھی اکیلے
تمام ولولے وہ سرد پڑ چکے اے عرشؔہمارے دل میں تھیں ورنہ حرارتیں کیا کیا
کیا چلائے گا وہ گرداب میں کشتی اے عرشؔموج ساحل بھی ڈرائے جسے طوفاں ہو کر
اے عرشؔ گنہ بھی ہیں ترے داد کے قابلتجھ کو کف افسوس بھی ملتے نہیں دیکھا
نکل تو جاؤ جہان خراب سے اے عرشؔمگر یہاں کوئی جائے فرار بھی تو نہیں
کس احتیاط سے اے عرشؔ اس کو صرف کریںمتاع عمر ہے کم اور چاہتیں ہیں بہت
عزم سفر بہار میں اے عرشؔ کس لیےدنیا کی ہر بہار بہار وطن میں ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books