aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "baara"
ہمانشی بابرا
شاعر
مرزارضا برق ؔ
1790 - 1857
آسی الدنی
1893 - 1946
ڈائرکٹر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی
ناشر
برق دہلوی
1884 - 1936
بقا اللہ بقاؔ
born.1791/2
بقا بلوچ
بابا فرید
1173/88 - 1266/80
عابد مناوری
born.1938
احمر ندیم
born.1998
1179 - 1266
لالہ رکھا رام برق
شو رتن لال برق پونچھوی
ابوالبقاء صبر سہارنپوری
مصنف
کرشن گوپال مغموم
born.1916
لہریں بسان برق چمکتی ہیں سر بہ سرپانی پہ مچھلیوں کی ٹھہرتی نہیں نظر
بادل کی یہ گرج نہیں ابر بہار میںبرا رہا ہے کوئی شرابی خمار میں
گو برستی نہیں سدا آنکھیںابر تو بارہ ماس ہوتا ہے
وہ پر شوق آنکھیں وہ حیران جلوےوہ چکر پہ چکر تھے بارہ دری کے
ایک علاج دائمی ہے تو برائے تشنگیپہلے ہی گھونٹ میں اگر زہر ملا دیا کرو
عام زندگی میں سچ اور جھوٹ کی کیا منطق ہے ،سچ بولنا کتنا مشکل ہوتا ہے اور اس کے کیا خسارے ہوتے ہیں ،جھوٹ بظاہر کتنا طاقت ور اوراثر انداز ہوتا ہے ان سب باتوں کو شاعری میں کثرت سے موضوع بنایا گیا ہے ۔ ہمارے اس انتخاب میں جھوٹ، سچ اور ان کے ارد گرد پھیلے ہوئے معاملات کی کتھا پڑھئے۔
बाराبارا
سنسکرت
بالا ، بچہ.
बराبَرا
رک : بڑا (۲) ، ماش کی پسی ہوئی دال کی ٹکیا جو تل کر بنائی جاتی ہے .
साराسارَہ
فارسی
ایک قسم کی چادر، پردہ، آڑ، رشوت
भराبَھرا
پُر ، لبریز ، بھرا ہوا.
بارہ کہانیاں
جمیل جالبی
افسانہ
برائے فروخت
محمد حامد سراج
ائمۂ اہل بیت کے بارہ امام
شاہد احمد
شرح انتخاب فارسی
ضیاء الدین شمسی طہرانی
مناظرے مذکر و مؤنث کے
عطا عابدی
قصائی باڑہ
اجیت کور
خواتین کی تحریریں
تعلیم برائے آزادی
دستور العمل
منشی نول کشور، لکھنؤ
مطبوعات منشی نول کشور
تحفہ اقبال برائے اطفال
نصرت شمسی
مرتب
برائے نام
یوسف ناظم
نثر
بارہ دری میں شام
صابر ظفر
بارہ ماسہ
لالہ ممن لعل
بارہ قصے
نامعلوم مصنف
برائے خاطر احباب
صالحہ عابد حسین
سفر نامہ
بارہ قباؤں کی سہیلی
عذرا پروین
ترے وجود سے بارہ دری دمک اٹھیکہ پھول پلو سرکنے سے ارتعاشا ہے
لب پر درد کا بارہ ماساگھوم رہا ہے پیت کا پیاسا
بہار رنگ خون گل ہے ساماں اشک باری کاجنون برق نشتر ہے رگ ابر بہاری کا
گلے میں ڈال دو بانہوں کا ہار ہولی میںاتارو ایک برس کا خمار ہولی میں
کرے ہے بادہ ترے لب سے کسب رنگ فروغخط پیالہ سراسر نگاہ گل چیں ہے
آغوش گل کشودہ برائے وداع ہےاے عندلیب چل کہ چلے دن بہار کے
اگر ہم آشنا ہوتے تری بیگانہ خوئی سیںبرائے مصلحت ظاہر میں بیگانے ہوئے ہوتے
ہو برائے شام ہجراں لب ناز سے فروزاںکوئی ایک شمع پیماں کوئی اک چراغ وعدہ
تو خود کو یوں ہی گراتا رہا تو آخر کارمیں تیرے قد سے تجھے سو گنا بڑا ملوں گا
صدائیں دیتی ہوئی خلائیں کہیں زمینوں تک آ نہ جائیںیہ خواب کاری پر تکلف برائے تعبیر کر رہے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books