تلاش کے نتائج
تلاش کا نتیجہ "bechaare"
انتہائی متعلقہ نتائج "bechaare"
نظم
اس بستی کے اک کوچے میں
اک شام جو اس کو بلوایا کچھ سمجھایا بیچارے نے
اس رات یہ قصہ پاک کیا کچھ کھا ہی لیا دکھیارے نے
ابن انشا
غزل
دکھ کے جنگل میں پھرتے ہیں کب سے مارے مارے لوگ
جو ہوتا ہے سہہ لیتے ہیں کیسے ہیں بے چارے لوگ
جاوید اختر
صفحہ کے متعلقہ نتیجہ "bechaare"
لغت سے متعلق نتائج
ریختہ لغت
ba.De bechaare nikle
बड़े बेचारे निकले بَڑے بِیچارے نِکلے
(طنزاً) جب کوئی نصیحت کے طور پر کوئی بات کہے تو کہتے ہیں، تم کون کہنے والے ہو
ghar kii jalii ban ga.ii ban me.n laagii aag ban bechaara kyaa kare karmo.n laagii aag
घर की जली बन गई बन में लागी आग बन बेचारा क्या करे कर्मों लागी आग گَھر کی جَلی بَن گَئی بَن میں لاگی آگ بَن بِیچارہ کیا کَرے جو کَرموں لاگی آگ
بدنصیب کا کہیں ٹھکانا نہیں جہاں جائے گا بدقسمتی کی وجہ سے سختی اُٹھائے گا.
naa.Dii kii kuchh sarat nahii.n hai davaa sabho.n kii karte hai.n, bedo.n kaa kyaa jaataa hai, log bichaare marte hai.n
नाड़ी की कुछ सरत नहीं है दवा सभों की करते हैं, बेदों का क्या जाता है, लोग बिचारे मरते हैं ناڑی کی کُچھ سَرَت نَہیں ہے دَوا سَبھوں کی کَرْتے ہَیں،بیدوں کا کیا جاتا ہے، لوگ بِچارے مَرْتے ہَیں
نبض دیکھنا جانتے نہیں اور علاج کرتے ہیں ، ایسے معالجوں کا کیا بگڑتا ہے ، ان کے علاج سے لوگ ہی مرتے ہیں (اناڑی حکیموں کے متعلق کہتے ہیں)
peT me.n pa.Daa chaaraa, kuudne lagaa bechaaraa
पेट में पड़ा चारा, कूदने लगा बेचारा پیٹ میں پَڑا چارا، کُودْنے لَگا بیچارا
مزید نتائج "bechaare"
شعر
دکھ کے جنگل میں پھرتے ہیں کب سے مارے مارے لوگ
جو ہوتا ہے سہہ لیتے ہیں کیسے ہیں بے چارے لوگ
جاوید اختر
نظم
مسلم امہ کا امریکہ سے شکوہ
گر گیا تیز ہواؤں سے اگر طیارہ
پکڑا جاتا ہے مسلمان یہاں بے چارا
خالد عرفان
نظم
بدنام ہو رہا ہوں
بے چارے کو یہ کیسا آزار ہو رہا ہے
دیکھے تو کوئی جانے بیمار ہو رہا ہے
اختر شیرانی
نظم
اوٹ پٹانگ
روز کئی کانے بے چارے مرتے تھے بیماری میں
کہتے ہیں راجا سوتا تھا سونے کی الماری میں
گلزار
غزل
جن کی زندگی دامن تک ہے بے چارے فرزانے ہیں
خاک اڑاتے پھرتے ہیں جو دیوانے دیوانے ہیں
فراق گورکھپوری
نظم
کافی ہاؤس
ان کو ادب کی صحت کا غم مجھ کو ان کی صحت کا
یہ بے چارے دکھ کے مارے جینے سے ہیں کیوں بے زار
حبیب جالب
غزل
ووٹ نہ بیچیں کیوں بے چارے بس کمبل کے بدلے میں
جو سردی میں اپنی چمڑی بستر کریں لحاف کریں
سردار پنچھی
نظم
ہاتھوں کا ترانہ
یہ چارہ گران درد جہاں، صدیوں سے مگر خود بے چارے
ان ہاتھوں کی تعظیم کرو




