aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "buluug"
بلّھے شاہ
1680 - 1757
شاعر
بلہے شاہ
بقا بلوچ
ناہید اختر بلوچ
born.1987
سجاد بلوچ
born.1976
خلیل حسین بلوچ
born.1984
نقاش علی بلوچ
born.1986
جعفر بلوچ
born.1947
ناصر بلوچ
نبی بخش خاں بلوچ
1917 - 2011
مصنف
بلیغ آسنسولوی
مدیر
بلاغ نعیمی
ناشر
Ayaaz Balooch
جمیلہ خانم بلیغ
قمر بلیغ وقار
بلوغ سن میں وہ صدمے نئے خیالوں کےنئے خیال کا دھچکا نئے خیال کی ٹیس
فلک پہ وجد میں لاتی ہے جو فرشتوں کووہ شاعری بھی بلوغ مزاج طفلی ہے
شکوک کیا ہیں مرے دوست آگہی کا بلوغیقین کیا ہے گھروندے کچھ آگہی کے ہیں
نمود ذوق و بلوغ ہنر کا ذکر ہی کیایہاں یہ لوگ تو آہ و بکا میں رہتے ہیں
سن بلوغ کو پہنچا نہیں جنوں شایدکہ قید طوق و سلاسل ابھی نہیں آئی
बुलूग़ी بُلُوغی
رک : بلوغ.
बुलूग़ بُلُوغ
جوانی، شباب، بالغ ہونا
عربی
बुज़ूग़ بُزُوغ
Light, rising (of the sun).
मुलुग مُلُگ
رک : مُلک جو اس کا درست اور مستعمل املا ہے ۔
بلوغ الارب
محمود شکری آلوسی
ترجمہ
تاریخ
بچہ سِن بلوغ تک
نورالحسن
بلوغ المرام فی مقالات اولیاء العظام
شیدا وارثی
اسلامیات
ایکٹ-نمبر-9
نا معلوم ایڈیٹر
قانون / آئین
مسك الختام في شرح بلوغ المرام
ابن حجر عسقلانی
کلام بابا بلھے شاہ
سمیع اللہ برکت
انتخاب
علامہ اقبال اور مولانا ظفر علی خاں
بلاغ المبین
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
بلہا کیہہ جاناں میں کون
ذکیہ مشہدی
ناول
البلاغ المبین
سندھ میں اردو شاعری
تحقیق
داستان امیر حمزہ
وقار عظیم
داستان
سوجھ بوجھ کی بات نہیں ہے من موجی ہے مستانہلہر لہر سے جا سر پٹکا ساگر گہرا بھول گیا
میراں سید علیؔ بزرگ کے پوتےسید حسینؔ شرف الدین شاہ ولایت کے پوتے
سنتے ہیں عشق نام کے گزرے ہیں اک بزرگہم لوگ بھی فقیر اسی سلسلے کے ہیں
بزرگ کہتے تھے اک وقت آئے گا جس دنجہاں پہ ڈوبے گا سورج وہیں سے نکلے گا
لازم نہیں کہ خضر کی ہم پیروی کریںجانا کہ اک بزرگ ہمیں ہم سفر ملے
تلاش جن کو ہمیشہ بزرگ کرتے رہےنہ جانے کون سی دنیا میں وہ خزانے تھے
خوشبو کو ترک کر کے نہ لائے چمن میں رنگاتنی تو سوجھ بوجھ مرے باغباں میں ہے
اک مہرباں بزرگ نے یہ مشورہ دیادکھ کا کوئی علاج نہیں جا شراب پی
بیان علم معانی فصاحت علم بلاغبیان کر نہیں سکتے کسی کی ایک ہنسی
ہم تو گئے تھے شیخ کو انسان بوجھ کرپر اب سے خانقاہ میں جایا نہ جائے گا
مرے قبیلے میں تعلیم کا رواج نہ تھامرے بزرگ مگر تختیاں بناتے تھے
زندگی سے زندگی روٹھی رہیآدمی سے آدمی برہم رہا
خوشی سی ملتی ہے خود کو اذیتیں دے کرسو جان بوجھ کے دل کو نڈھال رکھتے ہیں
جسے نہ بوجھ سکا عشق وہ پہیلی ہوجسے سمجھ نہ سکا پیار بھی وہ پیار ہو تم
سب کچھ جھوٹ ہے لیکن پھر بھی بالکل سچا لگتا ہےجان بوجھ کر دھوکہ کھانا کتنا اچھا لگتا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books