aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "chatke"
مطبع چمن ہند
ناشر
چایکین مستشرق
مصنف
یونائٹیڈ چوک انارکلی، لاہور
پھول جو چٹکے میں نے جاناتم نے شاید مجھ کو پکارا
پھر اچانک کسی لمحے میں جو چٹخے پتےہم وہی شوق کے مارے ہوئے دوڑے آئے
موچ کھائی ہوئی کچھ کھڑکیاں ترچھی سی کھڑی ہیںکانچ دھندلائے ہوئے چٹخے ہوئے
جو غنچہ سر شام چٹکے تو سمجھوکسی پر وفا کا تقاضا کرے ہے
ہجر میں چٹکے جو غنچے ہوئی آواز تفنگصحن گلزار ہے میدان صف آرائی کا
مایوسی زندگی میں ایک منفی قدر کے طور پر دیکھی جاتی ہے لیکن زندگی کی سفاکیاں مایوسی کے احساس سے نکلنے ہی نہیں دیتیں ۔ اس سب کے باوجود زندگی مسلسل مایوسی سے پیکار کئے جانے کا نام ہی ہے ۔ ہم مایوس ہوتے ہیں لیکن پھر ایک نئے حوصلے کے ساتھ ایک نئے سفر پر گامزن ہوجاتے ہیں ۔ مایوسی کی مختلف صورتوں اور جہتوں کو موضوع بنانے والا ہمارا یہ انتخاب زندگی کو خوشگوار بنانے کی ایک صورت ہے ۔
تمنائیں اور آرزوئیں ایک طور پر انسان کا سرمایہ بھی ہیں اور ساتھ ہی زندگی میں ایک گہرے دکھ اور حسرتوں کا سبب بھی ۔ انسان انہیں پالتا ہے لیکن وہ تمنائیں کبھی پوری نہیں ہوتیں ۔ ہم نے تمنا اور اس کی مختلف شکلوں پر محیط شاعری کا ایک چھوٹا سا انتخاب کیا ہے ۔ اس قسم کی شاعری ہمیں زندگی کو نئے ڈھنگ سے اور پہلے سے زیادہ بڑی اور پھیلی ہوئی سطح پر سوچنے کیلئے تیار کرتی ہے ۔
छटके چَھٹکے
الگ ہوکر، جُدا ہوکر
छटे چھَٹے
(بادلوں کا) صاف، ستھرا، چھے، ہندسوں میں ۶
खटके کَھٹْکے
کھٹکا کی جمع یا مغیرہ حالت، خلش، کھٹک، چبھن، ڈر، خوف، اندیشہ، خطرہ
ہندی
चक्के چَکّے
(ہندو) ہندوؤں کا ایک تیوہار جس میں چکی کی پسی ہوئی کوئی چیز نہیں کھائی جاتی .
چلتے ہو تو چین کو چلیے
ابن انشا
نثر
چلتے ہو تو چین کو چلئے
لولی نامہ، چکی نامہ، ہرنی نامہ، چرخہ نامہ
نظیر اکبرآبادی
پن چکی اورنگ آباد
سید مبارز الدین رفعت
ہندوستانی تاریخ
چمکی
مرزا عظیم بیگ چغتائی
چاہنے والے
فاروق ارگلی
رومانی
بادشاہ بننا چاہتے ہو یا ولی
امام محمد غزالی
چاک گریباں
آغا بابر
چلتے چلتے
عدیل زیدی
مجموعہ
چلتے پھرتے چہرے
راجندر سنگھ بیدی
چرخ اطلس
محبوب الٰہی عطا
رباعی
ہم امن چاہتے ہیں
ھربنس سنگھ دوست
انتخاب
سبھاش مکھوپادھیائے
نظم
چکلے
ساحر ہوشیار پوری
افسانہ
چانجے چھتے
تحقیق
بھوک کی کڑواہٹ سے سرد کسیلے ہونٹخون اگلتے سوکھے چٹخے پیلے ہونٹ
فصل گل آئے کلی کوئی نہ کوئی چٹکےآج مرغان سحر باغ میں چہکارے ہیں
دھیما دھیما سا نور جیسے تہ سازبڑھتا جاتا ہے چھٹکے تاروں کا گداز
نہ چٹخے دیکھنا یہ تشنگی سےطلب کا آبگینہ آنکھ میں ہے
رات بھر خوف سے چٹخے تھے سحر کی خاطرصبحدم خود کو بکھرتے ہوئے در پر دیکھا
جنبش جب اس کے لب کو ہوئی تو پتہ چلاچٹکے کلی تو روح میں نشتر اتار دے
کتنا نازک ہے آبگینۂ دلغنچہ چٹکے تو اور دکھتا ہے
آئی ہے بہار غنچے چٹکےکیا پھولوں کی بو مہک رہی ہے
گو نہیں طنبور ڈھولک ہی اٹھا لا مطرباغنچوں کے چٹکے پہ ہر بلبل نے گائی ہے بسنت
آئے فصل چمن کہ عید آئےغنچے چٹکے کہ شادیانہ ہوا
چاہتے تھے شہود میں غیب کا رنگ دیکھنامیری ز خویش رفتگی بن گئی رہنما کہ یوں
نکہت گل سے بس گیا گلشنغنچہ کیا چٹکے عطرداں ٹوٹے
خیالوں میں ترے آنچل کو دیکھاستارے جب بھی چٹکے مسکرا کے
غنچہ ہے تو چٹکے وہ ستارا ہے تو چمکےبیتاب ہے سینے میں دھڑکنے کے لیے دل
نابود مکمل کرٹوٹے نہیں چٹخے ہم
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books