تمنا پر شاعری

تمنائیں اور آرزوئیں ایک طور پر انسان کا سرمایہ بھی ہیں اور ساتھ ہی زندگی میں ایک گہرے دکھ اور حسرتوں کا سبب بھی ۔ انسان انہیں پالتا ہے لیکن وہ تمنائیں کبھی پوری نہیں ہوتیں ۔ ہم نے تمنا اور اس کی مختلف شکلوں پر محیط شاعری کا ایک چھوٹا سا انتخاب کیا ہے ۔ اس قسم کی شاعری ہمیں زندگی کو نئے ڈھنگ سے اور پہلے سے زیادہ بڑی اور پھیلی ہوئی سطح پر سوچنے کیلئے تیار کرتی ہے ۔

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

I have a thousand yearnings , each one afflicts me so

Many were fulfilled for sure, not enough although

I have a thousand yearnings , each one afflicts me so

Many were fulfilled for sure, not enough although

مرزا غالب

انساں کی خواہشوں کی کوئی انتہا نہیں

دو گز زمیں بھی چاہیئے دو گز کفن کے بعد

کیفی اعظمی

آرزو ہے کہ تو یہاں آئے

اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں

ناصر کاظمی

آغاز محبت کا انجام بس اتنا ہے

جب دل میں تمنا تھی اب دل ہی تمنا ہے

جگر مراد آبادی

عاشقی صبر طلب اور تمنا بیتاب

دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہوتے تک

Love has a need for patience, desires are a strain

as long my ache persists, how shall my heart sustain

Love has a need for patience, desires are a strain

as long my ache persists, how shall my heart sustain

مرزا غالب

گنوائی کس کی تمنا میں زندگی میں نے

وہ کون ہے جسے دیکھا نہیں کبھی میں نے

جون ایلیا

ہماری ہی تمنا کیوں کرو تم

تمہاری ہی تمنا کیوں کریں ہم

جون ایلیا

آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا

کیا بتاؤں کہ میرے دل میں ہے ارماں کیا کیا

اختر شیرانی

سب خواہشیں پوری ہوں فرازؔ ایسا نہیں ہے

جیسے کئی اشعار مکمل نہیں ہوتے

احمد فراز

خواب، امید، تمنائیں، تعلق، رشتے

جان لے لیتے ہیں آخر یہ سہارے سارے

عمران الحق چوہان

آگہی کرب وفا صبر تمنا احساس

میرے ہی سینے میں اترے ہیں یہ خنجر سارے

بشیر فاروقی

تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں

کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں

شاد عظیم آبادی

تجھ سے کس طرح میں اظہار تمنا کرتا

لفظ سوجھا تو معانی نے بغاوت کر دی

احمد ندیم قاسمی

بعد مرنے کے بھی چھوڑی نہ رفاقت میری

میری تربت سے لگی بیٹھی ہے حسرت میری

even after death my love did not forsake

at my grave my desires kept a steady wake

even after death my love did not forsake

at my grave my desires kept a steady wake

امیر مینائی

ارمان وصل کا مری نظروں سے تاڑ کے

پہلے ہی سے وہ بیٹھ گئے منہ بگاڑ کے

لالہ مادھو رام جوہر

کٹتی ہے آرزو کے سہارے پہ زندگی

کیسے کہوں کسی کی تمنا نہ چاہئے

شاد عارفی

دل میں وہ بھیڑ ہے کہ ذرا بھی نہیں جگہ

آپ آئیے مگر کوئی ارماں نکال کے

جلیل مانک پوری

خواہشوں نے ڈبو دیا دل کو

ورنہ یہ بحر بیکراں ہوتا

اسماعیلؔ میرٹھی

زندگی کیا جو بسر ہو چین سے

دل میں تھوڑی سی تمنا چاہیئے

جلیل مانک پوری

ہم آج راہ تمنا میں جی کو ہار آئے

نہ درد و غم کا بھروسا رہا نہ دنیا کا

وحید قریشی

تمنا تری ہے اگر ہے تمنا

تری آرزو ہے اگر آرزو ہے

خواجہ میر درد

یار پہلو میں ہے تنہائی ہے کہہ دو نکلے

آج کیوں دل میں چھپی بیٹھی ہے حسرت میری

my love beside me, solitude, tell them to play a part

why do my desires cower hidden in my heart

my love beside me, solitude, tell them to play a part

why do my desires cower hidden in my heart

امیر مینائی

چھپ کے رہنا ہے جو سب سے تو یہ مشکل کیا ہے

تم مرے دل میں رہو دل کی تمنا ہو کر

جلیل مانک پوری

یہ التجا دعا یہ تمنا فضول ہے

سوکھی ندی کے پاس سمندر نہ جائے گا

حیات لکھنوی

میں آ گیا ہوں وہاں تک تری تمنا میں

جہاں سے کوئی بھی امکان واپسی نہ رہے

محمود غزنی

ایک بھی خواہش کے ہاتھوں میں نہ مہندی لگ سکی

میرے جذبوں میں نہ دولہا بن سکا اب تک کوئی

اقبال ساجد

جینے والوں سے کہو کوئی تمنا ڈھونڈیں

ہم تو آسودۂ منزل ہیں ہمارا کیا ہے

محمود ایاز

مرے سارے بدن پر دوریوں کی خاک بکھری ہے

تمہارے ساتھ مل کر خود کو دھونا چاہتا ہوں میں

فرحت احساس

دل نے تمنا کی تھی جس کی برسوں تک

ایسے زخم کو اچھا کر کے بیٹھ گئے

غلام مرتضی راہی

مری ہستی ہے مری طرز تمنا اے دوست

خود میں فریاد ہوں میری کوئی فریاد نہیں

جگر مراد آبادی

ہم نہ مانیں گے خموشی ہے تمنا کا مزاج

ہاں بھری بزم میں وہ بول نہ پائی ہوگی

کالی داس گپتا رضا

عشق ہے جی کا زیاں عشق میں رکھا کیا ہے

دل برباد بتا تیری تمنا کیا ہے

جنید حزیں لاری

باقی ہے اب بھی ترک تمنا کی آرزو

کیونکر کہوں کہ کوئی تمنا نہیں مجھے

عادل اسیر دہلوی

مصاف زیست میں وہ رن پڑا ہے آج کے دن

نہ میں تمہاری تمنا ہوں اور نہ تم میرے

محمود ایاز