aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "chhalaknaa"
خانقاہ تیغیہ چکنا شریف مظفرپور
ناشر
توڑ پیمانۂ مردان خرد مند بھی توڑبن کے طوفان چھلکنا ہے ابلنا ہے تجھے
واعظو منہ میں تمہارے بھی بھر آئے پانیمئے رنگیں کا جو ساغر سے چھلکنا دیکھو
لوٹ آئے ہیں تجھے غیر کی قسمت کر کےآج کی رات تو آنکھوں کا چھلکنا طے ہے
ہم ایسے بلانوش کہ چھلکاتے ہی گزریتم ایسے تنک ظرف چھلکنا بھی نہ آیا
شام کی بات پہ آنکھوں کا چھلکنا معمولکیفیت خود پہ زبردستی نہیں طاری کی
छलकना چَھلَکْنا
کسی سیال چیز کا لبالب ہو کر گرنا یا ٹپکنا، ابل کر باہر نکلنا، لبریز ہو کر بہنا
سنسکرت
चमकना چَمَکْنا
چمکانا کا لازم، روشنی دینا، روشن ہونا، جگمگانا، منور ہونا
ہندی
छालना چھالْنا
صاف کرنا، چھلنی میں چھاننا، چھید کرنا، چھلنی جیسا بنانا، گاہنا
छलकता چَھلَکْتا
لبالب، بھرا ہوا، لذیذ، اتنا بھرا ہوا کہ باہر گرنے یا ٹپکنے لگے، ایک چھلکتا ہوا جام
چانکیہ نیتی
ترجمہ
چالاک کوا
غلام حیدر
افسانہ
چالاک بونا
ایم۔ کے۔ پاشا
چالاک سونا
ونیتا کرشنا
پرتھم بکس
چالاک لومڑی
طاہر اختر میمن
چالاک بوڑھا
مختار احمد
قصہ / داستان
عمرو کی چالاکی
مظہر کلیم
موضوع اور ضعیف حدیثوں کا چلن
شمس پیر زادہ
چالاک خرگوش کے کارنامے
معراج
اک چاند چمکتا ہے
حسنیٰ سرور
مجموعہ
چالاک قاتل
منشی گوہر علی خاں
اصلاحی و اخلاقی
چھلاوا
نامعلوم مصنف
معاشرتی
ناول
چالاڪ ٻار
چالاک بلّی
در کھلا صبح کو پو پھٹتے ہی مے خانے کاعکس سورج ہے چھلکتے ہوئے پیمانے کا
ہماری عمر کا پیمانہ اب لبریز ہے ساحرؔچھلکنا فرض ہو جاتا ہے پیمانے کا بھر جانا
مری آنکھ کا وو چھلکنا دکھا کیاکسی روز ہمدم یہ راحت ہی دیجے
چشم ساقی کی طرح ہے اثر انداز اے شیخبعد توبہ کے چھلکنا بھرے پیمانوں کا
محفل یاراں میں دیوانوں کا عالم کچھ نہ پوچھجام ہاتھوں میں اٹھائیں تو چھلکنا چاہیے
آنکھیں تو ہر اک لمحہ چھلکنے پہ مصر ہیںاشکوں کو مگر پونچھنے والا نہیں آیا
یار کے آگے چھلکنا چشم تر اچھا نہیںدوستی میں داغ دینے کا ہنر اچھا نہیں
دیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والی
ہر ذرہ چمکتا ہے انوار الٰہی سےہر سانس یہ کہتی ہے ہم ہیں تو خدا بھی ہے
ڈھونڈھے ہے تو پلکوں پہ چمکنے کے بہانےآنسو کو مری آنکھ میں آنا نہیں آتا
وہ ستارہ ہے چمکنے دو یوں ہی آنکھوں میںکیا ضروری ہے اسے جسم بنا کر دیکھو
جگر چاکانہ ہارا ہوں دل افگارانہ ہارا ہوں
کیا مل گیا ضمیر ہنر بیچ کر مجھےاتنا کہ صرف کام چلاتا رہا ہوں میں
وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئےوہ کشتیاں چلانے والے کیا ہوئے
اس کے سائے میں مرے خواب دہک اٹھیں گےمیرے چہرے پہ چمکتا ہوا آنچل کر دو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books