aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "chune"
چونی لعل چیتن
مصنف
چنی لال مڑیا
کنور چونی لعل
ناشر
عوامی جمہوریہ، چین
مجھے معلوم ہے اس کا ٹھکانا پھر کہاں ہوگاپرندہ آسماں چھونے میں جب ناکام ہو جائے
کل اور آئیں گے نغموں کی کھلتی کلیاں چننے والےمجھ سے بہتر کہنے والے تم سے بہتر سننے والے
بچوں کے چھوٹے ہاتھوں کو چاند ستارے چھونے دوچار کتابیں پڑھ کر یہ بھی ہم جیسے ہو جائیں گے
عجیب دکھ ہے ہم اس کے ہو کر بھی اس کو چھونے سے ڈر رہے ہیںعجیب دکھ ہے ہمارے حصے کی آگ اوروں میں بٹ رہی ہے
ایک مدت سے تمنا تھی تمہیں چھونے کیآج بس میں نہیں جذبات قریب آ جاؤ
احسان کرنا ،احسان کرکے اس کا بدلہ چاہنا ،احسان فراموش ہوجانا ، احسان کے پردے میں تکلیف پہنچانا یہ سارے تجربے روز مرہ کے انسانی تجربے ہیں ۔ ہم ان سے گزرتے بھی ہیں اور اپنی عام زندگی میں ان کا گہرا احساس بھی رکھتے ہیں ۔ لیکن شاعری ان تمام تجربوں کی جس گہری سطح سے ہمیں روشناس کراتی ہے اس سے زندگی کا ایک نیا شعور حاصل ہوتا ۔ عشق و عاشقی کے بیانیے میں احسان کی اور بھی کئی مزے دار صورتیں سامنے آئی ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔
اردو کتابوں کی فہرست کا ابجدی خاکہ۔آن لائن پڑھنے کے لئے سرچ باکس میں کتابوں کو ان کے نام کے ذریعہ چنئےتلاشیں۔
चुनेچُنے
منتخب، چیدہ
चूनेچُونے
چونا کی مغیّرہ حالت یا جمع، تراکیب میں مستعمل
छुपेچُھپے
چھپا کی جمع یا مغیرہ حالت، تراکیب میں مستعمل، نیز ’پ‘ مشدد بھی مستعمل
छूनीچُھونی
مس کرنے کا عضو یا آلہ ؛ (حیوانیات) کیڑوں کا وہ عضو جس سے وہ چیزوں کو مس کرتے ہیں کیڑوں کی مان٘ڈ یا مون٘چھ.
پھول کچھ میں نے چنے ہیں
سید شاہ نور اللہ قادری نقشبندی
خود نوشت
دیکھ لینا کہ چنے جائیں گے دیوار میں ہم
جمال زبیری
مجموعہ
فلک چھونے کی آرزو
شاعری
خواب چھونے کی خواہش
چنے ہوئے پھول
کرنل حمایت بیگ
نفیس فیض
احمد ندیم قاسمی کی گنی چنی کہانیاں
احمد ندیم قاسمی
افسانہ / کہانی
کسم اگرج کی چنی سنی نظمیں
کسم اگرج
چوہے کے خطوط بلی کے نام
سعید سہروردی
طنز و مزاح
چوں چوں کا مربہ
پاگل عادل آبادی
چوری چھپے
ہاجرہ مسرور
افسانہ
اردو کی چنی ہوئی غزلیں
وریندر
انتخاب
گنی چنی کہانیاں
انتظار حسین
چوں مرگ آید
تقی عابدی
اقبالیات تنقید
چن چناں دے معاملے
دعا علی
مرے اشک بھی ہیں اس میں یہ شراب ابل نہ جائےمرا جام چھونے والے ترا ہاتھ جل نہ جائے
سلب بینائی کے احکام ملے ہیں جو کبھیروشنی چھونے کی خواہش کوئی شب زاد کرے
جو آسماں کی بلندی کو چھونے والا تھاوہی منارہ زمیں پر دھڑام سے آیا
ترس رہے ہیں جواں پھول ہونٹ چھونے کومچل مچل کے ہوائیں بلا رہی ہیں تمہیں
ہمیں ان سے امیدیں آسماں چھونے کی کرتے ہیںہمیں بچوں کو اپنے فیصلے کرنے نہیں دیتے
چنے ہوئے ہیں لبوں پر ترے ہزار جوابشکایتوں کا مزہ بھی نہیں رہا اب تو
مجھے چھونے کی خواہش کون کرتاکہ پل بھر میں بکھر جاؤں گا میں بھی
چاند چھونے کی تمنا تو ہے ہم کو بھی مگردور کا چاند حقیقت ہو ضروری تو نہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books