aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "daasht"
آزرمی دخت صفوی
مصنف
علی دشتی
سنا ہے حشر ہیں اس کی غزال سی آنکھیںسنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں
کوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرے
دشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہے
اے مرے ابر کرم دیکھ یہ ویرانۂ جاںکیا کسی دشت پہ تو نے کبھی بارش نہیں کی
فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزلکہیں تو ہوگا شب سست موج کا ساحل
یاد شاعری کا بنیادی موضوع رہا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ناسٹلجیائی کیفیت تخلیقی اذہان کو زیادہ بھاتی ہے ۔ یہ یاد محبوب کی بھی ہے اس کے وعدوں کی بھی اور اس کے ساتھ گزارے ہوئے لمحموں کی بھی۔ اس میں ایک کسک بھی ہے اور وہ لطف بھی جو حال کی تلخی کو قابل برداشت بنا دیتا ہے ۔ یاد کے موضوع کو شاعروں نے کن کن صورتوں میں برتا ہے اور یاد کی کن کن نامعلوم کیفیتوں کو زبان دی ہے اس کا اندازہ ان شعروں سے ہوتا ہے ۔
دشت شاعری
दश्तدَشْت
فارسی
جنگل یا میدان، صحرا، ریگستان، غیر آباد علاقہ، بیابان
दश्त-ए-हूدَشْتِ ہو
ملطق جنگل، خوفناک بیابان، پرہول جنگل جہاں خدا کے سوا کوئی نہ ہو
दरख़्तدَرَخْت
پیڑ، جھاڑ، شجر
लाशेلاشے
مردہ جسم، لاغر دبلا، میت، جنازہ، لاشہ کی مغیرہ حالت، تراکیب میں مستعمل
دشت سوس
جمیلہ ہاشمی
ناول
دشت قیس میں لیلیٰ
کشور ناہید
شاعری
بچے کی صحت اور نگہ داشت
محمد عثمان خاں
طب
دشت دل
رائیڈر ہیگرڈ
دشت وجود
حمیدہ شاہین
مجموعہ
دشت میں کاٹی ہوئی رُتیں
غالب ایاز
دشت کے بھیڑیے
اسلم راہی
دشت آدم
سلیم شہزاد
دشت کا بھیڑیا
الیاس سیتا پوری
دشت عجب حیرانی کا
عین تابش
دشت خیال
کرشن چندر
مضامین
دشت احساس
ناظر صدیقی
ہم دشت میں دیتے ہیں اذاں
طاہر محمود
صحافت
دشت خواب
شمشیر حیدر
طواف دشت جنوں
حقانی القاسمی
دشت تنہائی میں اے جان جہاں لرزاں ہیںتیری آواز کے سائے ترے ہونٹوں کے سراب
دشت میں پیاس بجھاتے ہوئے مر جاتے ہیںہم پرندے کہیں جاتے ہوئے مر جاتے ہیں
یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگیاس دشت میں اک شہر تھا وہ کیا ہوا آوارگی
لیلیٰ کا ناقہ دشت میں تاثیر عشق سےسن کر فغان قیس بجائے حدی چلے
باقی نہ رہے ساکھ اداؔ دشت جنوں کیدل میں اگر اندیشۂ انجام ہی آئے
رہا کرتے ہیں قید ہوش میں اے وائے ناکامیوہ دشت خود فراموشی کے چکر یاد آتے ہیں
تم نے تو تھک کے دشت میں خیمے لگا لیےتنہا کٹے کسی کا سفر تم کو اس سے کیا
دشت پر خار کو فردوس جواں جانا تھاریگ کو سلسلۂ آب رواں جانا تھا
منیرؔ دشت شروع سے سراب آسا تھااس آئنے کو تمنا کی آب کیا دیتے
پیاسو رہو نہ دشت میں بارش کے منتظرمارو زمیں پہ پاؤں کہ پانی نکل پڑے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books