aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "daltaa"
کنول ضیائی
1927 - 2012
شاعر
سوامی وویکا نند
1863 - 1902
مصنف
داتا گنج بخش
شیخ علی ہجویری
شیخ اللہ دتہ نقشبندی
اللہ دتہ وارثی
مترجم
کلپنا دت
دتا حنفی صوفی نقشبندی
مدیر
ڈاکٹر الف۔ د۔ نسیم
منشی الٰہی دتہ
کالی کنکر دتا
امریش دتا
لالہ رام دتا مل اینڈ سنز، دہلی
ناشر
مسرز رام دتامل سنز، لاہور
رام دتہ مل اینڈ سنز تاجران کتب، لاہور
مرا قلم نہیں اوزار اس نقب زن کاجو اپنے گھر کی ہی چھت میں شگاف ڈالتا ہے
مشکل میں ڈالتا ہوں میں اپنے وجود کوآساں بنا رہا ہوں میں اپنے وجود کو
ویشیاؤں کے عشق میں ایک خاص بات قابل ذکر ہے۔ ان کا عشق ان کے روز مرہ کے معمول پر بہت کم اثر ڈالتا ہے۔...
ترے کرم سے یہاں بھی مجھے میسر ہےجو زاہدوں کی عبادت میں ڈالتا ہے خلل
جب ماہ اگھن کا ڈھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیاور ہنس ہنس پوس سنبھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی
चलता چَلْتا
بہتا ہوا، گزرتا ہوا، جاتا ہوا، زیر کاشت، قابل فروخت، سرسبز اچھی حالت میں
سنسکرت
जलता جَلتا
(کہاروں کی اصطلاح) آگ
दालना دالْنا
ڈالْنا، پہنتا
चल्ता چَلْتَہ
ایک خوشبودار سفید پھول کا نام جو جاڑے کے موسم میں اگتا ہے .
ان داتا
کرشن چندر
افسانہ
کشف المحجوب اردو
غزل دستہ
غزل
کشف و کرامات حضرت داتا گنج رحمتہ اللہ علیہ
محمد نصیب
مرزا ادیب
قصۂ عورت ڈلہ
داستان
سوچ کی داشتہ
رشید مصباح
تمثیلی/ علامتی افسانے
دستۂ گل
شبلی نعمانی
مجموعہ
ڈھلتا سورج بڑھتا سایہ
منجو قمر
ڈرامہ
داتا گنج بخش اور ان کا عہد
خالد محمود
چٹ گاؤں کے انقلابی
ترجمہ
حیات و تعلیمات: حضرت داتا گنج بخش
پروفیسر شیخ عبد الرشید
علی وردی اور اس کا عہد
محمد وارث کامل
نامعلوم مصنف
انتخاب
بوندوں کے حلقے نہیں پڑتے ہیں اے گل نہر میںڈالتا ہے ہندو ابر بہاری چوڑیاں
جاں ڈالتا ہے مصحفیؔ قالب میں سخن کےمشکل ہے کہ تم اس کی طرح شعر تو ڈھالو
کسی جزیرۂ پر امن کی تلاش میں ہوںخود اپنی راکھ سمندر میں ڈالتا ہوا میں
ڈھیر پر ڈالتا رہتا ہے
اس میں کارونجھر کی سسکیاس میں ہو کے ڈالتا چلتن!
ڈالتا ہے دھمال دل گویاعشق کے بعد اس کی باری ہے
میں جس دریا میں کانٹا ڈالتا تھاسنا ہے اب وہاں مچھلی نہیں ہے
ڈالتا کمندیں ہوں۔۔۔ جیل کے کناروں پر۔۔۔خار دار تاروں پر
تمام رات آنسوؤں سے غم اجالتا رہامیں غم اجال اجال کر خوشی میں ڈھالتا رہا
گندمی رنگ جو ہے دنیا میںمیری چھاتی پہ مونگ دلتا ہے
میں کفن نہیں خریدتاخود کو مار ڈالتا ہوں
کیوں ڈالتا ہے خاک کہ ہوگا کفن خرابمیں ہوں سفید پوش نہ کر پیرہن خراب
اسے لگام کیوں نہیں ڈالتاکیسی شتر بے مہار ہوئی پھرتی ہے
آنسو بہا رہا ہوں خط یار پڑھ کے میںیوں دانہ ڈالتا ہوں کبوتر کے روبرو
گلے میں ڈالتا ہے ہجر باہیںاداسی میرے پاؤں چومتی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books