aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "dast-e-ahl-e-karam"
انجمن عزاداران اہل بیت، حیدرآباد
ناشر
بزم اہل قلم ہزارہ
مرکز اہلسنت برکات رضا، پوربندر
امارت اہل حدیث، پٹنہ
مجلس اہل راز، مدراس
مکتبہ اہل سنۃ وجماعۃ، کراچی
نوجوانان اہل سنت وجماعت، مئو
مکتبۂ اہل نظر، لاہور
حلقۂ اہل قلم, جہلم
انجمن ترقی پسند اہل قلم، کراچی
مکتبہ اہل سنت والجماعت، دہلی
ادارہ اہل سنت و جماعت، حیدرآباد
مطبع اہل سنت و جماعت، بریلی
مکتبہ اہل قلم، ملتان
دبستان اہل قلم، لکھنوٗ
گدا دست اہل کرم دیکھتے ہیںہم اپنا ہی دم اور قدم دیکھتے ہیں
دیار اہل کرم کا طواف اپنی جگہابھر رہا ہے کہیں انحراف اپنی جگہ
جو دست اہل محبت کو اختیار ملےگدا کو پھول ملیں بادشہ کو خار ملے
اے اہل کرم نہیں میں سائلرستے پہ یوںہی کھڑا ہوا ہوں
خوب کیا جو اہل کرم کے جود کا کچھ نہ خیال کیاہم جو فقیر ہوئے تو ہم نے پہلے ترک سوال کیا
عشق اور رومان پر یہ شاعری آپ کے لیے ایک سبق کی طرح ہے، آپ اس سے محبت میں جینے کے آداب بھی سیکھیں گے اور ہجر و وصال کو گزارنے کے طریقے بھی۔ یہ پہلا ایسا خوبصورت مجموعہ ہے جس میں محبت کے ہر رنگ، ہر کیفیت اور ہر احساس کو قید کرنے والے اشعار کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ آپ انہیں پڑھیے اور عشق کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجیے۔
عشق ، رومان اور محبت پر یہ شاعری آپ کے لیے ایک سبق کی طرح ہے، آپ اس سے محبت میں جینے کے آداب بھی سیکھیں گے اور ہجر و وصال کو گزارنے کے طریقے بھی۔ یہ پہلا ایسا خوبصورت مجموعہ ہے جس میں محبت کے ہر رنگ، ہر کیفیت اور ہر احساس کو قید کرنے والے اشعار کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ آپ انہیں پڑھیے اور عشق کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجیے۔
تماشائے اہل کرم
مرزا ظفر الحسن
شاعری تنقید
تماشائے اہل كرم
شکیل افروز
ناول
لئیق اختر
ڈرامہ
وفیات اہل قلم
محمد منیر احمد
مسلک اسلاف اہلسنت
محمد کوثر حسن
فتوحات اہل حدیث
ابوالوفا ثناء اللہ امرتسری
ملک اہل حدیث
محمد صدیق
التقریر المعقول فی فضل الصحابتہ و اہل بیت الرسول
قادر بخش
تماشائے اہل قلم
فاروق ارگلی
احکام طعام اہل کتاب
سر سید احمد خاں
تقابلی مطالعہ
ناصر الابرار فی مناقب اہلبیت الاطہار
محمد ناصر علی
نذر اہل بیت
مہدی نظمی
مذہب اہل حدیث
عبداللہ محمدی دربھنگوی
قانون شادی بیوگان اہل ہنود
نا معلوم ایڈیٹر
ہندو ازم
تاریخ اہل زمانہ
خواجہ غلام الحسنین
ستم اہل کرم فرما رہے ہیںوفاؤں کو پسینے آ رہے ہیں
اہل زر نے دیکھ کر کم ظرفئ اہل قلمحرص زر کے ہر ترازو میں سخن ور رکھ دیے
غیرت اہل چمن کو کیا ہواچھوڑ آئے آشیاں جلتا ہوا
ہم کو خیال خدمت اہل جہاں تو ہےطاقت نہیں ہے پاؤں میں منہ میں زباں تو ہے
رفتگاں کا بھی خیال اے اہل عالم کیجیےعالم ارواح سے صحبت کوئی دم کیجیے
عظمت اہل جنوں پاس وفا رکھا ہےچاک دامن کو رفوگر سے بچا رکھا ہے
زوال غیرت اہل شرف پہ کیا کہئےچلی ہے رسم کہ فرعون کو خدا کہیے
اے اہل محبت کیا کہئے کیا چیز محبت ہوتی ہےکچھ غم کی حقیقت ہوتی ہے کچھ دل کی طبیعت ہوتی ہے
عشرت قتل گہہ اہل تمنا مت پوچھعید نظارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا
علاج اہل ستم چاہئے ابھی سے ظفرؔابھی تو سنگ ذرا فاصلے پہ گرتے ہیں
پلٹ کے جانب اہل و عیال دیکھتا ہوںکبھی جب اپنے لہو میں ابال دیکھتا ہوں
میں بتاتا ہوں زوال اہل یورپ کا پلاناہل یورپ کو مسلمانوں کے گھر پیدا کرو
وجد اہل کمال ہے کچھ اورشیخ صاحب کا حال ہے کچھ اور
اے اہل شہر آؤ چلو اس طرف چلوکہانیوں کی دھند سے آگے ذرا ادھر
اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکنجو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا!
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books