aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "fart-e-gam-o-alam"
بدر عالم خلش
born.1962
شاعر
بدر عالم خاں اعظمی
مصنف
نجمی نگینوی
born.1927
فخر عالم نعمانی
حکیم فخر عالم
born.1971
صدر عالم ندوی
مدیر
شہزادہ جان عالم
محمد بدر عالم
بدر عالم بلرامپوری
فخر عالم اعظمی
صدر عالم صاحب
مولوی ماہ عالم
رفیق عالم پریس
ناشر
فخر عالم
مولانا بدرِ عالم مدنی
فرط غم و الم سے جب دل ہوا ہے گریاںاس نے عنایتوں کے دریا بہا دیئے ہیں
فرط غم حوادث دوراں کے باوجودجب بھی ترے دیار سے گزرے مچل گئے
انتقام غم و الم لیں گےزندگی کو بدل کے دم لیں گے
چل دیے ہم اے غم عالم وداعشور ماتم تا کجا ماتم وداع
اے نگار غم و آلام تری عمر درازتو نے بخشے بہت آرام تری عمر دراز
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
فورٹ ولیم کالج کے مصنفین اور ان کی کتابیں یہاں پڑھیں۔ ریختہ نے یہاں فورٹ ولیم کالج کے مصنفین اور ان کی کتابوں کے ذخیرے کو جمع کر دیا ہے۔ آپ کو ضرور استفادہ کرنا چاہئے۔
یہ دس ایسی غزلوں کا مجموعہ ہے جنہیں نامور گلوکاروں نے اپنی آواز دی ہے، یہ غزلیں محبت اور عشق کے شدید جذبے سے لبریز ہیں۔ ہماری یہ پیشکش آپ کے لیے خاص ہے۔ یہاں آپ ان غزلوں کو پڑھ سکتے ہیں جنہیں ابھی تک صرف سنتے رہے ہیں۔
بزم غم دلگیر
سید انتظام الدین شاہ جمالی
غم خوار عالم
ایم ایچ بھٹی
اے غم دل کیا کریں
ضیا کرناٹکی
سفینۂ غم دل
قرۃالعین حیدر
ناول
داغ دلگیر
انتخاب
ذکر غم کربلا
سرفراز علی خاں
دیگر
موسم غم جاوید
جاوید زیدی
مجموعہ
سلک غم حسین
احمد علی عجیب
رباعی
آزار غم عشق
مہندر پرتاپ چاند
سفینہ غم دل
موجۂ غم و نالۂ حزین
گوپال سہاے حزیں
مثنوی
شاخ نہال غم
اختر لکھنوی
شاعری
علی امجد
افسانہ
نالۂ درد و غم
مولانا محمد جان
سر دہلیز غم
شبیر احمد آرزو
زندگی کیوں ہوئی وقف غم و آلام نہ پوچھمجھ سے اے دوست مرے عشق کا انجام نہ پوچھ
جب فرط غم میں آنکھ سے آنسو نکل گئےحالات میرے دیکھ کے پتھر پگھل گئے
شغل مے فرط غم میں کیا کرتےاس میں تھی دخت رز کی رسوائی
یوں آئی فرط غم میں کسی گل بدن کی یادصحرا میں جیسے آئے بہار چمن کی یاد
تحریک غم و آلام تو ہے تسکین دل ناکام نہیںکہنے کو تو دنیا ہے لیکن دنیا میں کہیں آرام نہیں
خوشی ملی مجھے لیکن غم و الم کی طرحچپک کے رہ گیا ہر درد مجھ سے غم کی طرح
باقرؔ نشانۂ غم و رنج و الم تو ہوچھوڑو کچھ اور بات کرو درد کم تو ہو
نہ سہی ان کی محبت کا اثر اے ہمدمدل کو احساس غم گردش ایام سہی
ہمیں نہیں غم و آلام کے ستائے ہوئےہر ایک شخص کوئی درد ہے چھپائے ہوئے
دکھ درد مصیبت غم و آلام نہیں ہےکس دل میں بھلا فصل خوں آشام نہیں ہے
غم و الم سے جو تعبیر کی خوشی میں نےبہت قریب سے دیکھی ہے زندگی میں نے
فطرتاً ربط ہے دل کو غم و آلام کے ساتھکھیلتے رہتے ہیں ہم گردش ایام کے ساتھ
غم و آلام کے دن کیا ہمیشہ رہنے والے ہیںذرا یہ رات ڈھل جائے اجالے ہی اجالے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books