aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ham-saa.ii"
ہم سب ہندوستانی ٹرسٹ، حیدرآباد
ناشر
سعید الحق عاشق
مترجم
محمد سمیع الحق
مصنف
پروفیسر سمیع الحق
سعیدالحق سعید اٹاوی
محمد سعیدالحق
سعید الحق عمادی
صائن علیگ
شاعر
سمیع الحق
مدیر
مححمد سعید ظہور الحق
مزا جاتا رہا جینے کا ہمسائی ملی اچھیاگر گزرے تو گزرے کس طرح اب زندگی اچھی
ویرانی کے سناٹے ہیںہمسائی قبروں میں جیسے
چار دن کی بہار ہے سارییہ تکبر ہے یار جانی ہیچ
محبت کیوں محلے بھر سے کر لیںہمیں تو ایک ہمسائی بہت ہے
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
ہندوستانی اساطیری روایات کے حوالے سے ہچکی کا سبب یہی سمجھا جاتا ہے کہ کوئی یاد کررہا ہے ۔ اس قسم کے تصورات سچ اور جھوٹ سے ماورا ہوتے ہیں ۔ شاعروں نے بھی ہچکی کو اس کے اسی تناظر میں برتا ہے ۔ کچھ اشعار کا انتخاب ہم آپ کے لئے پیش کر رہے ہیں ۔
آج کے شراب پینے والے ساقی کو کیا جانیں ، انہیں کیا پتا ساقی کے دم سے میخانے کی رونق کیسی ہوتی تھی اور کیوں مے خواروں کے لئے ساقی کی آنکھیں شراب سے بھرے ہوئے جاموں سے زیادہ لذت انگیزیز اور نشہ آور ہوتی تھیں ۔ اب تو ساقی بار کے بیرے میں تبدیل ہوگیا ہے ۔مگر کلاسیکی شاعری میں ساقی کا ایک وسیع پس منظر ہوتا تھا۔ ہمارا یہ شعری انتخاب آپ کو ساقی کے دلچسپ کردار سے متعارف کرائے گا ۔
हैہے
(کلمہء ندائیہ) اے ، یا ، ابے ، او ۔
हाई-काईہائی کائی
جاپانی شاعری کی ایک قدیم صنف (ہائیکو (رک) اسی نظم کا ابتدائی حصہ ہوا کرتی تھی) ۔
क्या हैکَیا ہے
کیاچیز ہے، اصلاّ کیا ہے
है क्याہَے کیا
کیا ہے ، اصل کیا ہے ، اصل میں کیا ہے ۔
ہم سب ایک ہیں
ہم سب استاد ہیں
فلمی نغمے
ہم سب چور ہیں
ہم سب ایک دیش کے باسی
نامعلوم مصنف
ہم سب نیند میں ہیں
زیبا جونپوری
مجموعہ
زنفر کھوکھر
نثر
ہم سب اور وہ
دیا نند ورما
زبان و ادب
قطب مدراس حضرت شیخ مخدوم عبدالحق ساوی
کاوش بدری
میر انیس
ضمیر اختر نقوی
مرثیہ تنقید
مثنوی سرحق
مثنوی
مکتوبات صدی
شرف الحق
سب ٹھیک ہے
اقبال نیازی
ڈرامہ
فضل حق خیرآبادی اور سن ستاون
محمود احمد برکاتی
مظہرالحق
محمد عبدالسمیع
غزل ہے شرط
ساقی فاروقی
غزل
وہ بھری بزم میں کہتی ہے مجھے انکل جیڈپلومیسی ہے یہ کیسی مری ہمسائی کی
میرے افسانے سناتی ہے محلے بھر کواک یہی بات ہے اچھی میری ہمسائی کی
آئی ڈی جب سے ملی ہے مجھے ہمسائی کیاچھی لگتی ہے طوالت شب تنہائی کی
کیا بات ہے مگر کہ جو ہمسائی آئی تھیننھے کی عمر آپ نے کیوں کم بتائی تھی
غزل کی شاعری کا وصف ہے سب سے جداگانہادا سے فکر سے اسلوب سے جدت سے تیور سے
سنہری شام ہے ساقیشفق گلفام ہے ساقی
جب کہیں شادی کی میری بات چلوائی گئیسب سے پہلے اس گلی میں میری ہمسائی گئی
مرے دشمن کو اتنی فوقیت تو ہے بہر صورتکہ تو ہے اس کی ہمسائی مجھے اچھا نہیں لگتا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books