aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "haqiir"
حقیر
شاعر
مومن خاں مومن
1800 - 1852
حکیم ناصر
1947 - 2007
قلق میرٹھی
1832/3 - 1880
شان الحق حقی
1917 - 2005
عیش دہلوی
1779 - 1874
دل شاہجہاں پوری
1875 - 1959
حکیم محمد اجمل خاں شیدا
1868 - 1927
سید ہمایوں میرزا حقیر
مصنف
حبیب اشعر دہلوی
1919 - 1971
حکیم منظور
born.1937
ابو الحسنات حقی
حکیم آغا جان عیش
ہاجر دہلوی
1884 - 1922
شفا گوالیاری
1912 - 1968
جن کو دولت حقیر لگتی ہےاف! وہ کتنے امیر ہوتے ہیں
نہیں آتے کسو کی آنکھوں میںہو کے عاشق بہت حقیر ہوئے
جن کو دولت حقیر لگتی ہےاف وہ کتنے امیر ہوتے ہیں
جانتا اس کو ہوں دوا کی طرحچاہتا اس کو ہوں شفا کی طرح
کیا وہ خواہش کہ جسے دل بھی سمجھتا ہو حقیرآرزو وہ ہے جو سینہ میں رہے ناز کے ساتھ
हक़ीर حَقِیر
مبتذل، ذلیل، خوار، اوچھا
عربی
फ़क़ीर فَقِیر
گدا، بھکاری، بھک منگا
फ़क़ीरा فَقِیرَہ
فقیرنی ، بھکارن.
हबीब حَبِیب
جس سے محبت کی جائے، محبوب، پیارا، معشوق، عاشق
دیوان حقیر
دیوان
آدمی درندہ ہے
حقیر آستانی
مجموعہ
ایک گناہگار بہن کا ہدیۂ حقیر
عبدالغفار
خطوط
افکار گریزاں
چمنستان فصاحت
سفرآخری
خبط وضبط
رقص عطش
نظم
چراغ سخن
محمد چراغ علی حقیر
انتخاب
منشی سوہن لال حقیر
محبت کا چشمہ
منشی شیخ ہدایت حقیر پایلوی
ناول
کلام بےنظیر
فتح محمد فاروقی حقیر
کلیات
ڈالی
مولوی محمد محسن خاں خانپوری
کرشمۂ تقدیر
ثمر محبت
کاروبار کھولا ہےاس حقیر بستی میں
بے دھڑک پی کر غریبوں کا لہو اکڑیں امیردیوتا بن کر رہیں تو یہ غلامان حقیر
تلاش کرتی ہیں اس بدن کی بشارتوں کوحقیر سوچوں حریص بانہوں کا کیا بنے گا
چلا خرید کے تربوز سوئے دشت حقیرلگی جو پاؤں میں ٹھوکر سنور گئی تقدیر
کیا جانیں ان کی چال میں اعجاز ہے کہ سحروہ بھی انہیں سے مل گئے جو تھے ہمارے لوگ
الجھتے رہنے میں کچھ بھی نہیں تھکن کے سوابہت حقیر ہیں ہم تم بڑی ہے یہ دنیا
حقیر خاک کے ذرے تھے آسمان ہوئےوہ لوگ جو در جاناں کے پاسبان ہوئے
سجدے مری جبیں کے نہیں اس قدر حقیرکچھ تو سمجھ رہا ہوں ترے آستاں کو میں
سمجھ حقیر نہ ان زندگی کے لمحوں کوارے انہیں سے زمانے بنائے جاتے ہیں
لوگ تجھ کو حقیر سمجھیں گےحد سے زائد بھی انکسار نہ کر
وہاں کبھی سبزہ زار و گلگشت کا سماں تھابلند و بالا حقیر و ہیچ
مخلص ہیں اور وہ بھی مجھ ایسے حقیر سےاپنے ہی ساتھ آپ یہ دھوکہ نہ کیجیے
فریب نے جن کے آدمی کوحقیر و بزدل بنا دیا ہے
ٹوٹیں وہ سر جس میں تیری زلف کا سودا نہیںپھوٹیں وہ آنکھیں کہ جن کو دید کا لپکا نہیں
خوب مل کر گلے سے رو لینااس سے دل کی صفائی ہوتی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books