aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "inhidaam"
انتقام الحسنین منتقم حیدری
مصنف
مجلس انتظام پائیگاہ خاص
مدیر
انڈیا الخیر فاؤنڈیشن، جونپور
ناشر
میں خود بھی آ رہا تھا جگہ ڈھونڈتے ہوئےیاں تک یہ انہدام ہی لایا نہیں مجھے
کسی نے پھر سے کھڑے کر دیے در و دیوارخیال تھا کہ مرا انہدام آخری ہے
تہ بہ تہ انتقام تھا سر خاکانہدام انہدام تھا ہی نہیں
کسی کے سرد رویے پہ خامشی کا لحافیہ انتقام بھی کیا انتقام ہوتا ہے
اک شخص اپنی ذات کی تعمیر چھوڑ کرمصروف آج کل ہے مرے انہدام میں
انتقام بدلہ لینے کا شدید ترین جذبہ ہے ۔ یوں تو انتقام کی صورتیں بہت گھناونی ہوتی ہیں لیکن شاعرمیں انتقام کلاسیکی عشق کی کہانی کا ایک موڑ ہوتا ہے جہاں عاشق اپنے ناختم ہونے والے ہجر کی توجیہ کسی دشمن کے انتقامی جذبے سے کرتا ہے۔ عاشق کا دشمن اس کا محبوب نہیں ہوتا بلکہ تقدیر اور آسمان عاشق کے دشمن کے کردار کے طور پر سامنے آتے ہیں جو محبوب اور اس سے وصال کے درمیان حائل ہوجاتے ہیں ۔
इंहिदाम اِنْہِدام
ڈھانے یا ڈھے جانے کا عمل، مسمار کرنا یا ہونا
عربی
इंहिज़ाम اِنْہِزام
شکست کھانا، پیٹھ دکھا کر بھاگنا، ہارنا
इंहिज़ाम اِنْہِضام
ہاضمہ، (غذا کا) ہضم ہونا، قوت ہاضمہ
इनहिदार اِنْحِدار
ڈھلان، نشیب
تجویز انہدام گنبد خضرا کا تاریخی پس منظر
یسین اختر مصباحی
فصوص الحکم
محی الدین ابن عربی
فلسفہ تصوف
تصوف
عربی تنقید مطالعہ اور جائزہ
محمد اقبال حسین ندوی
غلامی کا انسداد یا غریب کی دنیا
لیو ٹالسٹائی
غلامی کا انسداد
آتش انتقام
ارل ڈربگرز
جاسوسی
عرب کا ارتداد اور اس کا بزور انسداد
خواجہ حسن نظامی
فومانچو کا انتقام
سیکس روہمر
ناول
انسداد گداگری
سارہ بیگم
مضامین
مثنوی بہرام و گل اندام
طبعی گولکنڈوی
انتظام کتب خانہ
محبوب قریشی
اشاریہ
ہماری ہم نفسی کو بھی کیا دوام ہواوہ ابر سرخ تو میں نخل انتقام ہوا
آہستہ اس لرزتے ہوئے پل پہ رکھ قدمصدیوں کا انہدام ترے نام ہی نہ ہو
وقت کے انہدام میں، دل کی کتاب دب گئیجانے کہاں لکھا تھا تو، سوچتا ہوں نکال کر
ہر لحظہ انہدام کا ہے خوف مجھ کو ہوشؔمیں اس دیار شور و شر زلزلہ میں ہوں
سجدہ ہے انہدام ہے کیا ہے مجھے بتاقصر بدن گرا ہے کسی در کے سامنے
کیوں نہ ہو خوف انہدام دلاسی خستہ مکان میں ہم ہیں
بارش نہیں ہوئی تو مجھے فائدہ ہوامحفوظ ہے مکان مرا انہدام سے
نہ انتشار کا خطرہ نہ انہدام کا ہےیہ مرحلہ تو تباہی کے اختتام کا ہے
کچی دیواراور کچا مکان
یہ قصر لطف بنایا ہے عابدیؔ نے مگرمحبتوں میں فقط انہدام راحت ہے
عین ممکن ہے وہ چلا آئےرعب کا انہدام ہونے تک
مجھ اکیلے سے کچھ نہیں ہوگاتو مرا انہدام کر مرے ساتھ
دستاویزی پراسس مکمل ہواکاہنوں غیب دانوں کی فتنہ گری کے زمانے فنا ہو گئے
نیا نظام نیا انتظام آئے گانیا طریقہ نیا انصرام آئے گا
بنائے مدفن عجیب گھر ہے کب انہدام مکاں کا ڈر ہےرہ فنا راہ بے خطر ہے یہاں غم راہ زن نہ دیکھا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books