aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "jaayaa"
کومل جوئیہ
born.1983
شاعر
جیا شاہ
اننت شہرگ
born.1999
راجہ جیا لال بہادر گلشن
1785 - 1865
جیا لعل دت رفیق
مصنف
جے شری پانڈے
جید برقی پریس، دہلی
ناشر
دارالکتاب جامع مسجد، دہلی
جویا آنولوی
1875 - 1948
محمدی بک ڈپو، جامع مسجد، دہلی
جیا لال بھان برق کشمیری
جیا لال کول
کوی راج شری جے گوپال
لالہ جیا رام
نواب مرزا والا جا بہادر
جب اس کی تصویر بنایا کرتا تھاکمرا رنگوں سے بھر جایا کرتا تھا
اپنا غم لے کے کہیں اور نہ جایا جائےگھر میں بکھری ہوئی چیزوں کو سجایا جائے
جب نہ تب جاگہ سے تم جایا کیےہم تو اپنی اور سے آئے بہت
کل تھکے ہارے پرندوں نے نصیحت کی مجھےشام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو
ہنس کے بولا کرو بلایا کروآپ کا گھر ہے آیا جایا کرو
داغ دہلوی کے ہم عصر۔ اپنی غزل ’ سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ‘ کے لئے مشہور ہیں۔
اپنے شعر ’بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے‘ کے لیے مشہور
जाया جایا
سنسکرت
جنا ہوا ؛ بیٹا ، فرزند .
जया جَیا
ماں، دایہ کھلائی، دودھ پلائی.
जाया جایَہ
رک : جایا (۱)
जय्या جَیّا
فاتح ؛ فتح کرنے کے قابل.
انار کا مزہ
پرتھم بکس
بلبلوں والا جھاگ سے بھرا دودھ
افسانہ
کشتی کی سواری
ادب اطفال
رنگ برنگی خوبصورت مچھلیاں
یہ چراغ ہے تو جلا رہے
سلیم کوثر
مجموعہ
چھیڑ غالب سے چلی جائے
اکبر علی خاں
مقالات/مضامین
کتنی دیر چراغ جلا
باقی صدیقی
بے زبانی زباں نہ ہو جائے
فران سید
خود نوشت
میر باقر مخلص مرشد آبادی
ڈاکٹر عبد الرؤف
شاعری تنقید
کوچۂ جاناں جاناں
کلیم عاجز
فیض ایک جائزہ
اشفاق حسین
کیا قافلہ جاتا ہے
نصراللہ خان
خاکے/ قلمی چہرے
جادۂ نور
درشن سنگھ
اردو غزل ولی تک
سید ظہیر الدین مدنی
غزل تنقید
رہنمائے جمعبندی
ویرپا
قانون / آئین
مسکراہٹ ہے حسن کا زیورمسکرانا نہ بھول جایا کرو
دوئی کا تذکرہ توحید میں پایا نہیں جاتاجہاں میری رسائی ہے مرا سایا نہیں جاتا
خود کو اتنا بھی مت بچایا کربارشیں ہوں تو بھیگ جایا کر
دیکھ کر ہم کو نہ پردے میں تو چھپ جایا کرہم تو اپنے ہیں میاں غیر سے شرمایا کر
آخری لمحات میں کیا سوچنے لگتے ہو تمجیت کے نزدیک آ کر ہار جایا مت کرو
جیتے جی کوچۂ دل دار سے جایا نہ گیااس کی دیوار کا سر سے مرے سایہ نہ گیا
دیکھی ہیں ایسی ان کی بہت مہربانیاںاب ہم سے منہ میں موت کے جایا نہ جائے گا
وہ اس جہان سے حیران جایا کرتے ہیںجو اپنے آپ کو پہچان جایا کرتے ہیں
اس قدر بھی تو مری جان نہ ترسایا کرمل کے تنہا تو گلے سے کبھی لگ جایا کر
غرور حسن کو باطل سمجھ کرسراپا عشق بن جایا کریں گے
دھوپ بٹورا کرتے تھے ہم سارا دنشام کو بانٹ کے گھر لے جایا کرتے تھے
آنکھوں میں اشک قلب پریشاں نظر اداساس طرح ان کو چھوڑ کے جایا نہ جائے گا
خاموشی کے ناخن سے چھل جایا کرتے ہیںکوئی پھر ان زخموں پر آوازیں ملتا ہے
کس قدر ظلم ڈھایا کرتے تھےیہ جو تم بھول جایا کرتے تھے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books