aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kaar-e-ishq"
یہ کار عشق تو بچوں کا کھیل ٹھہرا ہےسو کار عشق میں کوئی کمال کیا کرنا
کہتا ہے کار عشق میں مر جانا چاہئےاس خوش گماں کو آپ سے ملوانا چاہئے
کار دنیا کو بھی کار عشق میں شامل سمجھاس لیے اے زندگی تیری پتہ رکھتا ہوں میں
چبھے جب دل میں خار عشق پھر کمتر نکلتے ہیںنکلتے ہیں اگر تو جان ہی لے کر نکلتے ہیں
ملی بھی کیا در دولت سے کار عشق کی دادیہی کہ تیشۂ فرہاد بر سر فرہاد
बार-ए-'इश्क़ بارِ عِشْق
burden of love
कार-ए-'इश्क़ کارِ عِشْقْ
عشق کی دشواریاں
عربی, فارسی
दार-उल-'इश्क़ دارُ العِشْق
پیار و محبت کی جگہ، دوستی کی جگہ
عربی
दार-उल-'ऐश دارُ العَیش
عیش و آرام کی جگہ، (مجازاً) جنّت
قہر عشق
ولیم شیکسپیئر
ڈراما
داڑھی کی قدرو قیمت
عاشق الٰہی میرٹھی
اسلامیات
سراب عیش
قاری سرفراز حسین
بہار عیش
ناول
دیوان مذاق عشق
کاظم علی خاں
تلاطم عشق
عبد الوارث خاں
افسانہائے عشق
حامد علی خان
طراز عشق
سید نور الحسن خان
تذکرہ
اقبال کا تصور عشق
غلام عمر خاں
مظہر عشق
اسد علی خان قلق
دیوان
مثنوی ناوک عشق
محمد افضل خاں
مثنوی
نو بہار عشق
غلام اعجاز الدین خان بہادر
نامۂ عشق
میر محمد علی خان بہادر
نظم دل افروز
شمس الدین علی خان عاشق
مجموعہ
صہبائے عشق
عبدالہادی خاں کاوش
نعت
سرد نہ کر مذاق عشق بیخودئ نماز میںآنکھ کو دوربیں بنا جلوہ گہہ مجاز میں
کوئی حسین ہے مختار کار خانۂ عشقکہ لا مکاں ہی کی چوکھٹ ہے آستانۂ عشق
رو کر نصیب عشق کو برسات بھی گئیبھڑکا کے آگ بھیگی ہوئی رات بھی گئی
خار زار عشق کو کیا ہو گیاپاؤں میں کانٹے چبھوتا ہی نہیں
لوگ روتے بھی ہیں تربت میں لٹا کر اے اشکؔاور سینے پہ بھی اک سنگ گراں رکھتے ہیں
اے مقلد بو الہوس ہم سے نہ کر دعوائے عشقداغ لالہ کی طرح رکھتے ہیں مادر زاد ہم
منزل عشق میں یہ ہوش و خرد کیا ہوں گےکہ اگر وقت پڑے کام میں لا بھی نہ سکوں
خارؔ کیا جانیے کیا بیر ہے اس دنیا کوگلبن عشق کبھی پھولنے پھلنے نہ دیا
کسی کے عشق میں دامان زیست تنگ ہواجنوں نے چاک گریباں دکھائے ہیں کیا کیا
یہ فرزانوں کی دنیا ایک دیوانوں کی دنیا ہےجو پختہ کار الفت ہیں انہیں کہتے ہیں سودائی
عشق کی آگ سوا کس میں ہے یہ کون کہےشمع کے سینۂ سوزاں میں کہ پروانے میں
خط پڑھے یا نہ پڑھے آئے نہ آئے وہ شوخخارؔ کیوں بھیج نہ دیں دیکھنے والی آنکھیں
خارؔ الفت کی بات جانے دوزندگی کس کو سازگار آئی
اٹھے نہ بیٹھ کر کبھی کوئے حبیب سےاس در پے کیا گئے کہ اسی در کے ہو گئے
قدم لے کر کلیجے سے لگاتے ہیں کبھی اس کوکبھی ہوتے ہیں ہم چشم و لب و رخسار کے صدقے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books