aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kasautii"
مشکور ممنون قنوجی
born.1980
شاعر
کاش قنوجی
born.1983
شہاب الدین شاہ قنوجی
born.1974
کسوٹی پبلیکیشن، سمستی پور، بہار
ناشر
مولوی سید حسن قنوجی
مصنف
مولوی اولاد حسین قنوجی
عرفان قنوجی
غلام اللہ قصوری
محفوظ کموٹی
عطیہ کار
محمد صادق قصوری
ہم نفساں پبلیکیشنز، کھتولی
مجھے تو روز کسوٹی پہ درد کستا ہےکہ جاں سے جسم کے بخیے ادھڑتے رہتے ہیں
جوہری نقد سخن کے ہیں پرکھنے والےہے وہ ٹکسال سے باہر جو کسوٹی نہ چڑھا
اگر کھوٹی الفت سے ہے تم کو دھوکہکسوٹی پر اس کو چڑھا لیجئے گا
سخت جان لیوا ہے سادگی محبت کیزہر کی کسوٹی پر زندگی کو کستی ہے
ہماری کسوٹی پر وہ ادب کھرا اترے گا جس میں تفکر ہو، آزادی کا جذبہ ہو، حسن کا جوہر ہو، تعمیر کی روح ہو، زندگی کی حقیقتوں کی روشنی ہو، جو ہم میں حرکت اور ہنگامہ اور بے چینی پیدا کرے۔...
کشتی ،ساحل ، سمندر ، ناخدا ، تند موجیں اور اس طرح کی دوسری لفظیات کو شاعری میں زندگی کی وسیع تر صورتوں کے استعارے کے طور پر برتا گیا ہے ۔ کشتی دریا کی طغیانی اور موجوں کی شدید مار سے بچ نکلنے اور ساحل پر پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے ۔ کشتی کی اس صفت کو بنیاد بنا کر بہت سے مضامین پیدا کئے گئے ہیں ۔ کشتی کے حوالے سے اور بھی کئی دلچسپ جہتیں ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔
कसौटी کَسوٹی
وہ سیاہ پتھر جس پر سونے چاندی کو گھس کر کھرا کھوٹا پرکھتے ہیں، محک
ہندی
कश्ती کَشْتی
ناؤ، سفینہ
فارسی
काटी کاٹی
کٹی ہوئی، مرکبات میں مستعمل
काती کاتی
سناروں کے ایک اوزار کا نام جس سے تار یا پترہ وغیرہ کاٹتے ہیں، کتّی
سنسکرت
عصمت چغتائی نقد کی کسوٹی پر
جمیل اختر
فکشن تنقید
محک الفقرا کلاں
حضرت سلطان باہو
شاعری
شمارہ نمبر ـ 012
انور شمیم
کسوٹی جدید
شمارہ نمبر ـ 020،021
Apr, Sep 2012کسوٹی جدید
کسوٹی اور دیگر افسانے
شیوبرت لال ورمن
افسانہ
عشق کی کسوٹی
مرزا سلیمان حیدر
رومانی
کسوٹی کی کسوٹی
حبییب احمد کیرانوی
شمارہ نمبر۔017
Jul, Aug, Sep 2011کسوٹی جدید
شمارہ نمبر۔016
محمد افضل خاں
Apr, May, Jun 2011کسوٹی جدید
شمارہ نمبر۔019
Jan, Feb, Mar 2012کسوٹی جدید
مفتی اعظم ہند صداقت کی کسوٹی پر
فرہاد حسین جعفری
اسلامیات
کسوٹی
اختر اورینوی
آرٹیکل کلیکشن
دو رنگی دنیا
پنڈت نارائن پرشاد بیتاب
ڈرامہ
عبدالحئی پیام انصاری
ملازمت کی کسوٹی
قاضی ابوالمعظم سید عبدالغفار
زرد زاہد ہے تو کیا کھوٹ ابھی ہے دل میںذوقؔ اس زر کو کسوٹی پہ کسا لگتا ہے
کئے پہ اپنے تو پچھتائے گا بہ ہر صورتکھرا کسوٹی پہ جب بے قصور اترے گا
اک کسوٹی ہے ترے کردار کیمرتبہ کیا مال کیا اولاد کیا
یہ نئی چیزوں کا زمانہ ہے۔ نئے جوتے، نئی ٹھوکریں، نئے قانون، نئے جرائم، نئی گھڑیاں، نئی بے وقتیاں، نئے آقا، نئے غلام اور لطف یہ ہے کہ نئے غلاموں کی کھال بھی نئی ہے جو ادھڑ ادھڑ کر جدت پسند ہو گئی ہے۔...
میں ہوں لمحوں کو کسوٹی پہ پرکھنے والاوقت ہو سونے کا پانی تو مجھے خط لکھنا
ناگن بن کر مجھے نہ ڈسنا بادلباراں کی کسوٹی پہ نہ کسنا بادل
عجب یہ بات ہے ہر دم ہمارا سچ پرکھتا ہےکبھی تو جھوٹ اس کا بھی کسوٹی پر کسا جائے
نہ جانے کیسے نازک تار کو مضراب نے چھیڑاکہ وجد آخر انہیں بھی آ گیا نوچا کسوٹی پر
یہ آنکھیں وہ کسوٹی ہیںجو سب کی دھوتیوں کرتوں عماموں
میں اپنے فعل و عمل پر کھری رہی میناؔعمل کسوٹی پہ ہم بے حجاب رکھتے ہیں
اس سے کتنا تھا پیار لوگوں کواس کسوٹی پہ اب پرکھنا ہے
تولے احساس کی کسوٹی پرہے جداگانہ زاویہ دل کا
اب زمانے کی کسوٹی کا یہی معیار ہےسیپ سے نکلا نہیں پھر بھی گہر کہتے ہیں لوگ
عدالت کی کسوٹی پر کسا جاتا ہے جب مجرمقلم کی ایک جنبش سارے حیلے کاٹ دیتی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books